احکام حج

بینک ملازم کا ریٹائر منٹ کے بعد ملنے والی رقم سے حج کرنا

فتوی نمبر :
82240
| تاریخ :
0000-00-00
عبادات / حج و عمرہ / احکام حج

بینک ملازم کا ریٹائر منٹ کے بعد ملنے والی رقم سے حج کرنا

کیا فرماتے ہیں علماءِ کرام اور مفتیانِ عظام اس مسئلہ کے بارے میں کہ میرے والد صاحب بینک میں ملازم تھے، ان کی ریٹائرمنٹ کے بعد جو پیسے انہیں ملے ہیں، ان سے حج کرنا کیسا ہے؟ (والد، والدہ) ۔
(۲) اس مال سے میرا حج کیسا ہے؟ جیسا کہ میں بھی نوکری کرتا ہوں، مسئلے سے آگاہ کر کے مشکور فرمائے۔
تنقیح: سائل کے والد بینک میں کس قسم کی ملازمت کرتے تھے، اور سائل خود کیا نوکری کرتا ہے؟ ان تنقیحات کا جواب لکھ کر سوال دوبارہ دارالافتاء بھیج دیں۔ ان شاء اللہ اس کے حکمِ شرعی سے بھی آگاہ کر دیا جائےگا۔ از دارالافتاء جامعہ بنوریہ سائٹ کراچی
جوابِ تنقیح: واضح ہو کہ میرے والد بینک میں گریڈ تین کے عہدہ پر ایک آفسر کی حیثیت سے اور سودی امور اُن سے متعلق تھے، جبکہ سائل خود ایک گارمنٹ کمپنی میں ملازم ہے

الجوابُ حامِدا ًو مُصلیِّا ً

بینک کی ایسی ملازمت اور اس سے حاصل ہونے والی آمدنی کا استعمال شرعاً جائز نہیں، پس اگر سائل کے والد کے پاس صرف بینک کی آمدن ہی ہو اس کے علاوہ کچھ بھی نہ ہو تو ایسی صورت میں حرام رقم سے فریضۂ حج کی استطاعت ثابت نہیں ہوتی اور نہ کوئی دوسرا اس رقم سے حج بجا لا سکتا ہے، بلکہ سب رقم واجب التصدق ہے، البتہ اگر سائل کے پاس اپنی کسی جائز ملازمت اور ذریعۂ معاش سے کچھ رقم وغیرہ ہو جو اس کے آنے جانے تک کے ضروری اخراجات کے لئے کافی ہو۔ تو اس صورت میں اس پر فریضۂ حج لازم ہوگا، ورنہ نہیں، تاہم اگر ایسی رقم سے فریضۂ حج ادا کر چکا ہو تو فرض ذمہ سے ساقط ہو جائےگا۔

مأخَذُ الفَتوی

کمافی الشامیۃ: ويجتهد في تحصيل نفقة حلال،فإنه لا يقبل بالنفقة الحرام كما ورد في الحديث، مع أنه يسقط الفرض عنه معها ولا تنافي بين سقوطه، وعدم قبوله فلا يثاب لعدم القبول، ولا يعاقب عقاب تارك الحج. اهـ(2/456)۔

واللہ تعالی اعلم بالصواب
دار الافتاء جامعه بنوریه عالمیه

فتوی نمبر 82240کی تصدیق کریں
Related Fatawa متعلقه فتاوی
Related Topics متعلقه موضوعات