ایک بیوہ خاتون سے نکاح کیا اور نکاح کے وقت اس کے بچوں کی ذمہ داری بھی قبول کی۔ نکاح کے سات ماہ بعد بچوں کی ذمہ داری اٹھانے سے انکار کرتے ہوئے انہیں ان کے دھدیال کے حوالے کر دیا، جو پہلے ہی بچوں کو واپس لینا چاہتے تھے۔ بیوی کا کہنا ہے کہ اس صورت میں نکاح فسخ ہوگیا ہے۔ کیا واقعی نکاح فسخ ہوگیا ہے؟
اگر کسی شخص نے بیوہ خاتون سے نکاح کے وقت بچوں کی کفالت کی ذمہ داری قبول کی ہو، بعد میں وہ اس ذمہ داری سے انکار کر دے، تو اس كایہ عمل اخلاقی طور پر نامناسب اوروعدہ خلافی کے زمرے میں آتاہے اوربلاعذرِشرعی ایساکرنےسےوہ شخص گناہ گاربھی ہوگا،تاہم مذکور وعدہ خلافی کی وجہ سےبیوی کایہ کہناکہ "نکاح فسخ ہوگیاہے" شرعاًدرست نہیں،لہذااگرکوئی اوروجہ فسخ نکاح موجودنہ ہو،توان دونوں کانکاح برقرارہے ،جب تک شوہر بیوی کے دیگر حقوق (نان و نفقہ، سکونت، حسنِ معاشرت) ادا کر رہا ہو، تووہ میاں بیوی کی حیثیت سے زندگی بسرکرسکتے ہیں ،بلاوجہ شک وشبہہ میں پڑنے سے احترازچاہیے۔