نکاح

صرف وکیل اور نکاح خواں کی موجودگی میں کیے ہوئے نکاح کا حکم

فتوی نمبر :
81580
| تاریخ :
2025-02-21
معاملات / احکام نکاح / نکاح

صرف وکیل اور نکاح خواں کی موجودگی میں کیے ہوئے نکاح کا حکم

میں کسی کو پسند کرتی تھی اور اسکے گھر سے تین دفعہ رشتہ بھی آیا لیکن میرے والدین معیار میں برابری نہ ہونے کی وجہ سے اس پر راضی نہیں تھے ۔لڑکے نے مجھے بہت منایا اور میں نے جذبات میں آکر ہاں کردی اور وکیل کے ذریعے نکاح ہوگیا ۔نکاح گاڑی میں ہوا اور تب گاڑی میں وکیل قاری اور ہم دونوں موجود تھے جب کہ گواہ باہر کھڑے تھے اور انہوں نے ایجاب و قبول نہیں سنا، بس نکاح نامے پر دستخط کیے۔ پھر گھر معلوم ہو گیا تو میرے والد بہت پریشان ہوئے اور مجھے سمجھایا کہ وہ تمہارے معیار کے مطابق نہیں اس لئے خلع لے لو۔جب میں نے خلع کا کیس کیا تو اس لڑکے نے مجھے پورے خاندان میں بدنام کیا ۔اور وہ مجھے طلاق نہیں دےرہا تو کیا عدالت طلاق کر دے تو ہو جائے گی ؟اور کیا میرا نکاح ہوا تھا یا نہیں؟

الجوابُ حامِدا ًو مُصلیِّا ً

سوال میں درج کردہ تفصیل کے مطابق سائلہ اور مذکور لڑکے کا اولیاء کی اجازت و رضامندی کے بغیر ازخود اپنی مرضی سے نکاح کرنا تو عرف اور معاشرے میں معیوب ہونے کی وجہ سے قطعاً مناسب نہیں تھا تاہم اگر مذکور لڑکا سائلہ کا کفؤ اور ہم پلہ ہو ،اور دونوں نے گاڑی میں ایک وکیل اور قاری صاحب کی موجودگی میں ایجاب وقبول کر کے نکاح کیا ہوتو اگرچہ نکاح نامہ پر دستخط کرنے والے نامزد گواہ گاڑی میں موجود نہ ہوں اور انہوں نے ایجاب وقبول کے الفاظ نہ سنے ہوں تب بھی چونکہ نکاح کے موقع پر دو گواہ (وکیل اور قاری صاحب) موجود تھے اس لئے شرعاً یہ نکاح درست منعقد ہوچکا ہے،جس کے بعد اگر سائلہ اور مذکور لڑکے کا حدود الله میں رہتے ہوئے اس رشتے کو برقرار رکھنا ممکن نہ ہو تو سائلہ کو چاہئیے کہ کسی طرح مذکور لڑکے کو طلاق یا خلع پر آمادہ کرکے اس سے خلاصی حاصل کرنے کی کوشش کرے،مذکور لڑکے کی اجازت و رضامندی کے بغیر یکطرفہ طور پر خلع کی ڈگری حاصل کرنے سے شرعاً سائلہ کا نکاح ختم نہ ہوگا۔
لیکن اگر مذکور لڑکا حسب نسب دینداری وغیرہ میں سائلہ کا کفؤ اور ہم پلہ نہ ہو تو ایسی صورت میں شرعاً یہ نکاح منعقد نہ ہوگا ۔

مأخَذُ الفَتوی

کما فی الدر المختار:(أمر) الأب (رجلا أن يزوج صغيرته فزوجها عند رجل أو امرأتين، و) الحال أن (الأب حاضر صح) لأنه يجعل عاقدا حكما (وإلا لا) . (ولو زوج بنته البالغة) العاقلة (بمحضر شاهد واحد جاز إن) كانت ابنته (حاضرة) لأنها تجعل عاقدة (، وإلا لا) الأصل أن الآمر متى حضر جعل مباشرا الخ (ج:3،ص:25)
وفی الشامیۃ: تحت قولہ(قوله: أمر الأب رجلا) أي وكله والضمير البارز في صغيرته للأب والمستتر في زوجها للرجل المأمور، وكونه رجلا مثال، فلو كان امرأة صح لكن اشترط أن يكون معها رجل أو رجل وامرأة كما أفاد في البحر (قوله:؛ لأنه يجعل عاقدا حكما) لأن الوكيل في النكاح سفير، ومعبر ينقل عبارة الموكل، فإذا كان الموكل حاضرا كان مباشرا؛ لأن العبارة تنتقل إليه وهو في المجلس، وليس المباشر سوى هذا، بخلاف ما إذا كان غائبا؛ لأن المباشر مأخوذ في مفهومه الحضور، فظاهر أن إنزال الحاضر مباشرا حبري فاندفع ما أورده في النهاية من أنه تكلف غير محتاج إليه فإن الأب يصلح شاهدا، فلا حاجة إلى اعتباره مباشرا إلا في مسألة البنت البالغة فتح ملخصا، وتمامه في البحرالخ(ج3،ص:25)

واللہ تعالی اعلم بالصواب
سلیم اللہ علیم عُفی عنه
دار الافتاء جامعه بنوریه عالمیه
فتوی نمبر 81580کی تصدیق کریں
0     24
Related Fatawa متعلقه فتاوی
Related Topics متعلقه موضوعات