السلام علیکم
بیٹی نے ایم بی بی ایس کیا ہوا ہے اور ابھی ہاؤس جاب کر رہی ہے ، ہم الحمدللہ حاحب حیثیت ہیں کوئی مالی پریشانی نہیں ہے،اس کی ایک لڑکے سے منگنی ہوئی تھی اس وقت اس نے ہاں کی تھی اور اب انکار کر رہی ہے اور کہہ رہی ہے کہ آپ مجھ پر زبردسکتی نہیں کرسکتے،جبکہ سارے انتظامات ہوچکے ہیں ، لڑکا بھی بہت اچھا ہے اور مالی اعتبار سے مستحکم ہے اب ہمیں کیا کرنا چاہیے ؟ رہنمائی فرمائیں۔شکریہ
شریعت مطہرہ نے ہرعاقل بالغ لڑکی کو اپنی پسند کی جگہ شادی کی اجازت دی ہے، کسی بھی دوسرےشخص کواس پر اپنی مرضی مسلط کرنے کاکوئی حق حاصل نہیں، جبکہ منگنی کی حیثیت محض نکاح پرآمادگی کے اظہاراوروعدہ کی ہے، اور وعدہ کے حوالے سےشرعی حکم یہ ہے کہ اسے حتی الامکان پورا کیا جائے، تاہم شدید مجبوری کی صورت میں اس کے خلاف کرنے کی بھی گنجائش ہوتی ہے، لہذا بعض اوقات شرعی مجبوری یامعقول عذرکی وجہ سے منگنی ختم بھی کی جاسکتی ہے، لیکن کسی شرعی ومعقول عذرکے بغیر منگنی ختم کرنےسےوعدہ خلافی لازم آئے گی، جوازروئےحدیث منافق کی نشانی وعلامت اورگناہ کاباعث ہے۔
لہذا صورتِ مسئولہ میں اگرسائل نے رشتہ طے کرتےوقت باقاعدہ بیٹی کی رضامندی معلوم کی تھی ،اوراس نے اس وقت کسی قسم کی ناپسندیدگی کابھی اظہارنہیں کیاتھا،تو اب سائل کی بیٹی کا بلاکسی عذر ِ شدید رشتے سے انکار کرنا شرعاًواخلاقاًمناسب طرزِ عمل نہیں ،لہذااسے چاہیےکہ اپنی رضامندی کے ساتھ والدین کے کیے فیصلہ کی لاج رکھےاوربلاوجہ وعدہ خلافی کی مرتکب نہ ہو ،لیکن اگر رشتہ طےکرنے میں لڑکی کی رضامندی شامل نہ ہو ،یااس نے دلی رضامندی کے بغیرمحض دباؤمیں آکر"ہاں"کی ہویابعدمیں لڑکے سےمتعلق کسی قسم کے حتمی شواہدسامنےآنے کی وجہ سے رائے بدل گئی ہوکہ نکاح کے بعد دونوں کانباہ نہ ہوسکےگاتو پھر اس عقدسےانکار کی گنجائش موجودہے ،لہذاسائل کوبھی چاہیے کہ وہ پیارومحبت سے بیٹی کوراضی کرنے کی کوشش کرے،اگروہ پھربھی راضی نہ ہوتواس پرجبرکرکے ہرگزنکاح نہ کرےکیونکہ شرعاً لڑکی کی رضامندی کے بغیر نکاح منعقد نہیں ہو گا۔
قال اللہ تعالی :یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْۤا اَوْفُوْا بِالْعُقُوْدِ."(المائده:1)
کمافی فتاوی الھندیہ :لايجوز نكاح أحد على بالغة صحيحة العقل من أب أو سلطان بغير إذنها بكرا كانت أو ثيبا فإن فعل ذلك فالنكاح موقوف على إجازتها فإن أجازته؛ جاز، و إن ردته بطل، كذا في السراج الوهاج(فتاوی ھندیہ ج:1 ص:287ط: رشيدية)