کیا فرماتے ہیں مفتیانِ کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ زید نے عمر سے کہا کہ آپ مجھے پیسے دیں، میں کاروبار کروں گا ،اور جو نفع ملے گا وہ سب آپ کا ہو گا ،تو عمر نے زید کو 152,000 روپے دیئے ، زید نے ان پیسوں کے ساتھ اپنی طرف سے ایک اور آدمی کے پیسے ملا کر گاڑی خریدی، پھر اس گاڑی کو قسطوں پر بیچ دیا، اب زید نے عمر سے کہا کہ اس بیع میں آپ کا منافع 80،000 سے زیادہ ہوا ہے، لیکن میں آپ کے پیسوں 152،000 سے 2000 روپے خرچے کے کاٹتا ہوں، تو آپ کے 150000 روپے بچیں گے اس کے علاوہ میں 80000 روپے آپ کو منافع دیتا ہوں ،اور باقی منافع میں خود رکھتا ہوں (حالانکہ طے یہ ہوا تھا کہ سارے منافع عمر کے ہوں گے) اور باقی رأس المال 150000 اور منافع 80000 میرے ذمہ ہوگا چاہے گاڑی یا جس آدمی کو گاڑی فروخت کی ہے انکو کچھ بھی ہو جائے (یعنی بھاگ جائے یا گاڑی جل جائے) آپ مجھ سے ماہانہ 6000 قسط لے لیا کریں۔
اب صرف یہ معلوم کرنا ہے کہ بنیادی طور پر یہ معاملہ شرعاً صحیح ہوا ہے یا نہیں؟ اس کا نفع عمر کیلئے حلال ہے یا نہیں؟ جبکہ عمر کا زید سے کسی مطالبے کا ارادہ نہیں وہ اس حد تک بھی تیار ہے کہ اگر شرعاً کے منافع حلال نہیں تو صرف 152000 لے لے گا اور باقی کچھ نہیں۔
صورت مسئولہ میں مذکور معاملے کو اصطلاح فقہا میں ’’بضاعت‘‘ سے تعبیر کیا جاتا ہے جو کہ بلاشبہ ایک جائز معاملہ ہے، لہذا عمر کے لیے اپنے کل رأس المال کی بقدر تمام منافع وصول کرنے میں شرعاً بھی کوئی حرج نہیں ہے، مذکور اخراجات اگر معاملہ بیع کے دوران ہوئے ہوں تو اس کی کٹوتی جائز ہے،اور اگر اپنی ذاتی محنت کا معاوضہ ہو تو پہلے سے طے نہ ہونے کی وجہ سے اس کا کاٹنا درست نہیں، اس سے احتراز لازم ہے، الا یہ کہ مسمیٰ عمر اپنا حصہ وصول کرنے کے بعد اپنی مرضی سے مسمیٰ زید کو بھی کچھ دیدے تو یہ جائز اور درست ہو گا۔
كما في الدر المختار: (قوله: ويبضع إلخ) في القاموس: الباضع الشريك اهـ والمراد هنا دفع المال لآخر ليعمل فيه على أن يكون الربح لرب المال ولا شيء للعامل بحر اھ (4/ 316)،
وفيه ایضاً: تحت (قوله لا مضاربة) المراد بالبضاعة هنا الاستعانة؛ لأن الإبضاع الحقيقي لا يتأتى هنا، وهو أن يكون المال للمبضع، والعمل من الآخر، ولا ربح للعامل، وفهم من مسألة الكتاب جواز الإبضاع مع الأجنبي بالأولى اهـ (5/ 657)۔
ایک شریک کا کمپنی سے قرض سے لیکر اس پر اسی کمپنی سے فلیٹ خریدکر شرکت ختم ہونے کے بعد باقی شرکاء کا اس فلیٹ کی موجودہ مارکیٹ ویلیو کے اعتبار سے قرض کی وصولی کا مطالبہ کرنا
یونیکوڈ شرکت و مضاربت 0جس کی آمدنی کا معلوم نہ ہو کہ حلال یا حرام, اس کے ساتھ کاروباری معاملات کرنا
یونیکوڈ شرکت و مضاربت 0شرکاء کا مشترکہ چیز , کسی ایک شریکِ کو حوالے کیے بغیر گفٹ کر کے اس کے نام کردینے کا حکم
یونیکوڈ شرکت و مضاربت 0سرمایہ دار کا، کاروبار کے اختتام پر سامان فروخت کرکے سرمایہ وصول کرنے کی شرط لگانا
یونیکوڈ شرکت و مضاربت 0کاروباری بندے کو رقم دی لیکن کوئی معاہدہ , شراکت یا مضاربت کی تصریح و تعیین نہ ہوئی
یونیکوڈ شرکت و مضاربت 0والد نے بیٹے کو زندگی میں کاروبار کے لیے جو رقم دی تھی وہ والد کے ترکے میں شامل ہوگی؟
یونیکوڈ شرکت و مضاربت 0