گناہ و ناجائز

بینک کے ذریعہ پیسے منگوا کر بینک کا بطورِ ہدیہ سونا تحفے میں دینا

فتوی نمبر :
80965
| تاریخ :
0000-00-00
حظر و اباحت / جائز و ناجائز / گناہ و ناجائز

بینک کے ذریعہ پیسے منگوا کر بینک کا بطورِ ہدیہ سونا تحفے میں دینا

کیا فرماتے ہیں مفتیانِ کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ ایک شخص نے دوسرے ملک سے پیسے بینک کے ذریعے منگوائے ،اور وہ پیسے اس کو مل گئے، اور بینک نے محض تبرعاً بغیر کسی چارج کے اس کا نام قرعہ اندازی میں شامل کر دیا، اس کے نام کا قرعہ نکلا ،اور اس کو سونے کی ایک ٹکیہ ملی، تو سوال یہ ہے کہ وہ سونے کی ٹکیہ اس کے لئے حلال ہے یا حرام؟ جلد رہنمائی فرمائیں۔ آپ کی بہت مہربانی ہوگی۔

الجوابُ حامِدا ًو مُصلیِّا ً

جب اس قرعہ اندازی میں شخصِ مذکور کا کوئی عمل دخل نہیں ،تو مذکور سونے کا ٹکیہ بینک والوں کی طرف سے تبرع ہے، اس لئے اس کا لینا اور اپنے استعمال میں لانا جائز اور درست ہے۔

مأخَذُ الفَتوی

ففي الدر المختار: (إن شرط المال) في المسابقة (من جانب واحد وحرم لو شرط) فيها (من الجانبين) لأنه يصير قمارا اھ(6/ 403) -

واللہ تعالی اعلم بالصواب
صبغت اللہ میر عالم عُفی عنه
دار الافتاء جامعه بنوریه عالمیه
فتوی نمبر 80965کی تصدیق کریں
0     692
Related Fatawa متعلقه فتاوی
Related Topics متعلقه موضوعات