کیا فرماتے ہیں مفتیانِ کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ ایک شخص نے دوسرے ملک سے پیسے بینک کے ذریعے منگوائے ،اور وہ پیسے اس کو مل گئے، اور بینک نے محض تبرعاً بغیر کسی چارج کے اس کا نام قرعہ اندازی میں شامل کر دیا، اس کے نام کا قرعہ نکلا ،اور اس کو سونے کی ایک ٹکیہ ملی، تو سوال یہ ہے کہ وہ سونے کی ٹکیہ اس کے لئے حلال ہے یا حرام؟ جلد رہنمائی فرمائیں۔ آپ کی بہت مہربانی ہوگی۔
جب اس قرعہ اندازی میں شخصِ مذکور کا کوئی عمل دخل نہیں ،تو مذکور سونے کا ٹکیہ بینک والوں کی طرف سے تبرع ہے، اس لئے اس کا لینا اور اپنے استعمال میں لانا جائز اور درست ہے۔
ففي الدر المختار: (إن شرط المال) في المسابقة (من جانب واحد وحرم لو شرط) فيها (من الجانبين) لأنه يصير قمارا اھ(6/ 403) -