کیا فرماتے علماء کرام و مفتیان عظام اس مسئلہ کے بارے میں کہ گزارش ہے کہ ایک مسئلہ میں رہنمائی درکار ہے، اللہ تعالیٰ آپ حضرات کی خدمات کو قبول فرمائیں (آمین)۔
بندہ کی اہلیہ محترمہ نے 1992ء سے لیکر 2008 تک ملازمت کے دوران گھر والوں کی ترغیب پر حکومت پاکستان کی سیونگ سرٹیفیکیٹ اسکیم میں وقتا فوقتا رقم جمع کرائی، اور گھر والوں کے تقاضے پر ’’منافع ‘‘ بھی نکلوایا، جو گھر میں خرچ ہو گیا۔
2008ء کے آخیر میں جب اللہ رب العزت نے شرعی پردہ کی توفیق دی ،اور مدرسہ عائشہ رضی اللہ تعالٰی عنھا میں داخلہ لیا، تو اس اسکیم میں مزید لینا دینا بند کر دیا، ایک محتاط اندازے کے مطابق محترمہ نے اس دورانیہ میں جو رقم اس نے خود جمع کر وائی ،وہ اندازاً ایک لاکھ پچاسی ہزار (۱۸۵۰۰۰) روپے سے دولاکھ(۲۰۰۰۰) کے لگ بھگ ہے، اب جبکہ بند کر دیا ہے، تو حکومت اسکیم کی طرف سے سات لاکھ چونسٹھ ہزار(۷۶۴۰۰۰) کا چیک ملا ہے۔
۱:کیا خاتون اس رقم میں سے کچھ استعمال کر سکتی ہیں ؟ اگر ہاں تو کتنی ؟
۲:باقی رقم کا بہترین مصرف کیا ہو سکتا ہے ؟
۳: جو رقم اس دورانیہ میں استعمال ہوگی ’’منافع‘‘ کی اس کا حساب بھی معلوم نہیں، اس کیلئے کیا کرنا ہوگا ؟ جواب سے رہنمائی فرمائیں ۔ جزاکم اللہ خیرا فی الدنيا و الآخرة فقط
سیونگ اسکیم پر ملنے والا منافع شرعاً سود کے حکم میں ہے ،اس کا لینا اور اپنے استعمال میں لانا جائز نہیں، بلکہ حرام ہے، اس لئے جتنی رقم قسطوار جمع کی ہو ،اتنی تو بلاشبہ لے سکتی ہیں،اب اگر ابھی تک اتنی مقدار لے چکے ہوں ،تو بہتر، ورنہ اس سے زائد لیکر استعمال کر لینا جائز نہیں، بلکہ اس زائد رقم کو لینے کے بعد کسی واقعی مستحق کو دیدیں ،اور یہ کہ آئندہ کیلئے اس قسم کے معاملات کرنے سے احتراز بھی لازم ہے۔
کما فی اعلاء السنن : عن علی امیر المؤمنین مرفوعاً كل قرض جر منفعة فهو ربا اھ (۱/ ۴۹) ۔
وفي المبسوط للسرخسي: ولهذا قلنا أن المنفعة إذا كانت مشروطة في الإقراض فهو قرض جر منفعة اھ (14/ 63)۔
وفي الفتاوى الهندية: والسبيل في المعاصي ردها وذلك هاهنا برد المأخوذ إن تمكن من رده بأن عرف صاحبه وبالتصدق به إن لم يعرفه ليصل إليه نفع ماله إن كان لا يصل إليه عين ماله اھ (5/ 349)۔
وفي حاشية ابن عابدين: والحاصل أنه إن علم أرباب الأموال وجب رده عليهم، وإلا فإن علم عين الحرام لا يحل له ويتصدق به بنية صاحبه اھ(5/ 99) والله أعلم بالصواب!
سونا قرض دے کر بعد میں کچھ کی ادائیگی کے لئے سونے اور بقیہ کی ادائیگی کے لئے نقد رقم کی شرط لگانا
یونیکوڈ سود 1