مکرم ومحترم جناب مفتی عبد اللہ شوکت صاحب!
السلام علیکم! کے بعد عرض ہے کہ میں نے بینک منافع کیلئے فتویٰ لینا ہے، میرا چھوٹا بھائی ہے، جس کا نام علی ہے، ہمارے والد صاحب وفات پاچکے ہیں، والد صاحب کے بینک میں تقریباً ڈھائی لاکھ روپے جمع تھے ،جو اب چھوٹے بھائی علی کے نام ہیں، علی کی عمر تقریباً آٹھ سال ہے،قانون کے مطابق جب تک علی اٹھارہ سال کا نہ ہو جائے ، کوئی بھی وہ پیسے نہیں نکلوا سکتا، عدالت نے علی کے ماہانہ اخراجات کا حساب لگا کر بینک کو کہا ہے کہ ہر چھ ماہ کے بعد قریباً 10700روپے دے دیا کرے، اب چاہے یہ روپے اصل سے نکلیں یا منافع ہو، ہمیں یہ روپے مل جاتے ہیں، اب چونکہ علی 10 سال تک یہ روپے نہیں نکلوا سکتا ،اور نہ ہم خود نکلوا سکتے ہیں، اور پیسہ (روپیہ) کی قیمت روز گرتی جا رہی ہے،اب اس روپے کا دس سال سے پہلے کوئی مصرف نہیں ہو سکتا۔ برائے مہربانی تقویٰ کی رو سے بتائیں کہ کیا یہ 10700روپیہ قابل استعمال ہے یا نہیں؟ اگر ہے تو کن شرائط کے ساتھ، اور اگر نہیں تو اس کا کیا کریں، جس حدیث سے مسئلہ استنباط فرمائیں ،اگر وہ بھی تحریر فرمادیں، تو عین نوازش ہوگی۔ ذرا تشفی کے لئے۔جزاك الله
محترم سائل اول تو کوشش کرنی چاہیئے کہ بینک میں جمع شدہ تمام رقم یکمشت مِل جائے، اگر سرکاری قوانین کی بناء پر ایسا ناممکن ہو، اور مذکور طریقہ کار کے علاوه اس رقم کے نکلوانے کا اور کوئی طریقہ نہ ہو ،اور یہ رقم بھی بینک کے ( PLS) اکاؤنٹ میں جمع ہو جس میں نفع کے نام پر سود ملتا ہے ،تو اس صورت میں آپ کیلئے اتنی رقم ہی بینک سے نکلوا کر اپنے استعمال میں لانا جائز اور درست ہے ،جتنی آپ کے والد مرحوم نے جمع کروائی تھی، اس سے زائد جتنی رقم بھى و صول ہو، وه سب نکلوا کر بغیر نیتِ ثواب کے فقراء و مساکین میں تقسیم کر دیں ،اور آئندہ کیلئے یہ اکاؤنٹ بھی بند کروا دیں، اگر رقم و غیره محفوظ رکھنے کیلئے اکاؤنٹ کھلوانے کی ضرورت پڑ جائے ،تو بہ مجبور ی بینک کا کرنٹ اکاؤنٹ کھلوا لیں کہ اس میں سودی معاملہ نہیں ہوتا۔
ففي حاشية ابن عابدين: والحاصل أنه إن علم أرباب الأموال وجب رده عليهم، وإلا فإن علم عين الحرام لا يحل له ويتصدق به بنية صاحبه اھ(5/ 99)۔
سونا قرض دے کر بعد میں کچھ کی ادائیگی کے لئے سونے اور بقیہ کی ادائیگی کے لئے نقد رقم کی شرط لگانا
یونیکوڈ سود 1