کیا فرماتے ہیں مفتیانِ کرام و علماءِ کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ ایک شخص کا چائے کا ہوٹل ہے، وہ دودھ کے بجائے خشک دودھ مثلاً ’’ملکو‘‘ کرولک، ایم جی وغیرہ استعمال کرتا ہے، کیا یہ جائز ہے اور کیا یہ ملاوٹ میں داخل ہے؟
اگر جائز نہیں تو عدم جواز کی کیا وجہ ہے اور چائے والا کہتا ہے کہ میرے گاہکوں کو معلوم ہے، اس لیے کوئی مضائقہ نہیں، اس شخص کا یہ قول شریعت میں کیا حیثیت رکھتا ہے؟ مہربانی فرما کر عقلی اور نقلی دلائل سے مزین فرما کر بندہ کی دل کو تسلی بخشے۔
اگر کوئی شخص دودھ خریدنے آئے، اور مذکور ہوٹل والا اُسے خالص اور تازہ دودھ کہہ کر فروخت کرے ،یا گاہگ کو اسی ترتیب سے چائے د،ے تب تو جھوٹ اور دھوکہ بازی کی وجہ سے یہ شخص گناہ کبیرہ کا مرتکب ہے، جس سے احتراز اور آئندہ کے لیے پاؤڈر والا دودھ ہونے کی صراحت کرنا لازم ہے۔
اور اگر خریدار یا چائے پینے والے کو دودھ کے پاؤڈر والا ہونے کا علم ہو یا ہوٹل والا اُسے خود بتا دے اور اس کے باوجود وہ دودھ خرید لے یا اسی دودھ کی چائے کا مطالبہ کرے، یا بغیر کسی تصریح کے چائے مانگے، اور ہوٹل والا اسے مذکور چائے دے دے ،تو ان صورتوں میں اس پر کوئی گناہ نہیں اور اس کی آمدنی بھی حلا ل اور جائز ہوگی۔
ففی مرقاة المصابیح: من غش فلیس منا (۶/ ۸۴)
وفیه أیضاً: من غشا فلیس منا والمکرو الخداع فی النار اھ (۶/۸۴)۔
وفی الشامیة: من ان المعروف کالمشروط اھ (۳/ ۱۳۰)۔