نکاح

لڑکی کے نہ چاہتے ہوئے اس کے والدین کا غیر متبع شریعت شخص سے نکا ح کرنے پر اسے مجبور کرنا کیسا ہے؟

فتوی نمبر :
78036
| تاریخ :
2024-09-12
معاملات / احکام نکاح / نکاح

لڑکی کے نہ چاہتے ہوئے اس کے والدین کا غیر متبع شریعت شخص سے نکا ح کرنے پر اسے مجبور کرنا کیسا ہے؟

السلام عليکم ورحمۃ الله و بركاتہ ! عرض یہ ہے کہ ميری عمر27سال ہے، اور میرا تقریباً ایک سال سے زائد ایک جگہ رشتہ چل رہا ہے، اور وہ لڑکا دین دار، باشرع ہے، لیکن میرے علاقہ سے تقریباً 11سے 12سو کلومیٹر دور ہے، اس پر میرے والدین را ضی نہیں کرنے کے لیے ،حالانکہ وہ یہ شرط رکھ کر را ضی ہے کہ لڑکا وہیں رہائش کریگا تو ہم کر دینگے، اور میں ایک چھوٹے شہر سے تعلق رکھتی ہوں جہاں نوکری ملنا ممکن نہیں، فل وقت لڑکا جہاں مقیم و نوکر ہے ،وہ بھی میرے گھر سے بہت دور ہے، لڑکے کا کہنا ہے کہ مجھے کچھ وقت دیدے تو میں آپ کے شہر میں ہی رہائش گاہ بنا لونگا، کوئی کاروبار کر لونگا۔ لیکن نکاح میں دیری نہیں کریں، جلدی کردیں۔ میری والدہ خصوصاً اس پر راضی نہیں ہے۔ اور میں خود پردہ و دین داری میں زندگی گزارنا چاہتی ہوں۔ دوسری بات یہ کہ میری والدہ دوسری جگہ رشتہ دیکھ رہی ہے، لیکن یہ دوسرا لڑکا ظاہراً غیر شرع زندگی گزار رہا ہے، مثلاً گانا لگا کر فوٹو ڈالنا، نہ ڈاڑھی ہے چہرے پر، نہ کوئی ظاہری دین نظر آتا ہے، لیکن میرے گھر والے اس پر زور دے رہے ہیں ،کیونکہ یہ میرے محلہ میں ہی ہے۔ میرے گھر والے مجھے ڈانٹ رہے ہیں کہ اس کے پاس بس ڈاڑھی ہے، اس لیے تم یہ کر رہی ہو، جبکہ میرا دل صرف ایک با شرع شوہر چاہتا ہے، اور اپنی آنے والی اولاد کا مستقبل، میری والدہ مجھے ڈانٹ کر چپ کرا دیتی ہے اور مجھے میرے بھائی اور والد سے ڈر لگتا ہے۔ تو کیا اس صورتحال میں ، میں یہ ضد و جدوجہد کر سکتی ہوں کہ مجھے دین والا رشتہ ہی کرنا ہے، بجز اس کے کہ میری والدہ مجھ سے ناراض ہو اور مجھے دل دکھا کر گھر سے روانہ کریں۔ میرے گھر والے دنیا ہی بس دیکھ رہے ہیں اور میں دین چاہتی ہوں، چاہے دنیا کم ملے۔ میں کسی بے دین شخص کے ساتھ زندگی نہیں گزار سکتی ۔حضرت مفتی صاحب! میرے حق میں دعا کریں، میں آپ کی راہ نمائی کی بھی طلب گار ہوں، میں کیا کروں؟ جلد از جلد جواب عنایت کریں۔

الجوابُ حامِدا ًو مُصلیِّا ً

واضح ہوکہ اسلام نے نکاح کے معاملے میں مرد و عورت پرجبر کو روانہیں رکھا ،بلکہ اس کی پسند اور رضامندی سےنکاح کرنے کی اجازت دی ہے،لہذا صورتِ مسئولہ میں سائلہ کے والدین کوچاہیےکہ وہ اس پر اپنی مرضی مسلط کرنے کے بجائے اس کی مرضی وخوشی کو ملحوظ رکھیں،حصوصاً جب وہ رشتہ داری کرنے میں دنیاداری کی بجائے دین کو ترجیح دینے کامطالبہ بھی کررہی ہے،اس لیے سائلہ کے والدین کو چاہیے کہ نکاح جیسے اہم معاملہ میں صرف مال ودولت یا گھر کے قریب رہائش کو ہی مدنظر نہ رکھیں،بلکہ دینداری کو اس معاملے میں مقدم رکھیں،جس کی ترغیب خود نبی کریم ﷺ نے اپنی حدیث مبارکہ میں بھی دی ہے ، نبی کریم ﷺ فرمایا:عورت سے نکاح چار چیزوں کی بنیاد پر کیا جاتا ہے: اس کے مال، اس کے خاندان (نسب)، اس کے حسن و جمال، اور اس کے دین (دینداری) کی وجہ سے۔تو تم دیندار عورت کو حاصل کرو، تیرے ہاتھ خاک آلود ہوں ،تاہم سائلہ کوچاہیئےکہ وہ اس معاملہ میں والدین کو نرمی اور پیار محبت سے راضی کرنے کی کوشش جاری رکھے، اگراز خود سمجھانا مفید ہو تو خاندان کے معزز ین کے ذریعے سمجھانے کی کوشش کرے،اور ہر نماز کے بعد سات مرتبہ سورۃ الفرقان کی آیت نمبر 74 کا ورد کرے اللہ پاک جلد از جلد آسانی کا معاملہ فرمائیں گے۔

واللہ تعالی اعلم بالصواب
محمد رحمان عُفی عنه
دار الافتاء جامعه بنوریه عالمیه
فتوی نمبر 78036کی تصدیق کریں
0     7
Related Fatawa متعلقه فتاوی
Related Topics متعلقه موضوعات