نکاح

عورت کا شوہر ربیبہ کے لئے محرم ہے یا نہیں؟

فتوی نمبر :
77510
| تاریخ :
2024-08-19
معاملات / احکام نکاح / نکاح

عورت کا شوہر ربیبہ کے لئے محرم ہے یا نہیں؟

السلام علیکم ورحمۃ اللہ! میں نے جس خاتون سے شادی کی ہے ،ان کی پہلے خاوند سے طلاق ہوچکی ہے،جس میں سے ان کی تین بیٹیاں ہیں،سوال یہ ہے کہ وہ بیٹیاں میرا محرم رشتہ ہیں؟کیونکہ ان کا والد انہیں اپنی سابقہ بیوی کے ساتھ نہیں رہنے دیتا کہ آپ کا شوہر میرے بچیوں کے لیے نا محرم ہے۔

الجوابُ حامِدا ًو مُصلیِّا ً

واضح ہوکہ بچیوں کے بالغ ہونے تک (جس کی کم از کم مدت نو سال ہے)ان کی پرورش کا حق بچیوں کی ماں کو حاصل ہوتا ہےبشرطیکہ اس دوران وہ بچیوں کے کسی غیر ذی رحمِ محرم سے شادی نہ کرےورنہ حقِ پرورش ختم ہوکر ان بچیوں کی نانی کو حاصل ہوگا،اگر نانی نہ ہو یا وہ پرورش سے انکار کردے تو پھر ان بچیوں کی دادی،خالہ اور پھوپھی کو بالترتیب حق پرورش حاصل ہوگا،صورتِ مسئولہ میں سائل چونکہ ان بچیوں کے لیے غیرذی رحم محرم ہے،لہذا سائل کے ساتھ شادی کرنے کی وجہ سے ماں کا حقِ پرورش ختم ہوکران بچیوں کی نانی کی طرف منتقل ہوچکا ہے،لہذا ان بچیوں کا والد ان کو ماں سے لیکر نانی یا دادی یا خالہ اور پھوپھی کے حوالہ کرسکتا ہے ،تاہم اگر سائل نے اس خاتون سے ازدواجی تعلق قائم کرلیا ہو تو ایسی صورت میں سائل کے لیے مذکور بچیاں محرم شمار ہوں گی،اور سائل کے لیے ان سے ملاقات کرنا شرعاً جائز ہوگا،البتہ اگر کسی قسم کے فتنے کا اندیشہ ہو تو ایسی صورت میں بچیوں کا والد انہیں سائل کےساتھ ملاقات کرنے سے روک سکتا ہے۔

مأخَذُ الفَتوی

کمافی الدر المختار: (ثم) أي بعد الأم بأن ماتت، أو لم تقبل أو أسقطت حقها أو تزوجت بأجنبي (أم الأم) وإن علت عند عدم أهلية القربى (ثم أم الأب وإن علت) بالشرط المذكور وأما أم أبي الأم فتؤخر عن أم الأب بل عن الخالة أيضا بحر (ثم الأخت لأب وأم ثم لأم) لأن هذا الحق لقرابة الأم الخ(ج3 ص562 باب الحضانۃ ط: سعید)۔
وفی الفتاوى الهندية: (والثانية) بنات الزوجة وبنات أولادها وإن سفلن بشرط الدخول بالأم، كذا في الحاوي القدسي سواء كانت الابنة في حجره أو لم تكن، كذا في شرح الجامع الصغير لقاضي خان. وأصحابنا ما أقاموا الخلوة مقام الوطء في حرمة البنات هكذا في الذخيرة في نوع ما يستحق به جميع المهر.اھ(ج1 ص274 کتاب النکاح ط: ماجدیۃ)۔
وفیھا أیضاً: والأم والجدة أحق بالجارية حتى تحيض وفي نوادر هشام عن محمد - رحمه الله تعالى - إذا بلغت حد الشهوة فالأب أحق وهذا صحيح هكذا في التبيين. الصغيرة إذا لم تكن مشتهاة ولها زوج لا يسقط حق الأم في حضانتها ما دامت لا تصلح للرجال كذا في القنية (الی قولہ) الولد متى كان عند أحد الأبوين لا يمنع الآخر عن النظر إليه وعن تعاهده كذا في التتارخانية ناقلا عن الحاوي.اھ(ج1 ص542/543 کتاب الطلاق ط: ماجدیۃ)۔

واللہ تعالی اعلم بالصواب
محمد ابراہیم اسماعیل عُفی عنه
دار الافتاء جامعه بنوریه عالمیه
فتوی نمبر 77510کی تصدیق کریں
0     794
Related Fatawa متعلقه فتاوی
Related Topics متعلقه موضوعات