السلام علیکم ! میری والدہ واپڈہ کی ذیلی کمپنی HESCO سے پنشن وصول کرتی ہے ، وہاں کا پنشن انچارج، پنشن پروسز کے لیےپیسے مانگ رہا تھا، اس طرح پیسہ رشوت کے طور پر دینا تو بالکل ناجائز ہے، مگر اس طرح رشوت د ئیے بغیر وہ پروسزنہیں کر رہا ، اس بارے میں ہمارے لئے کیا حکم ہے؟
صورت مسئولہ میں سائل کی والدہ کے لئے اگر مذکور کمپنی سے پنشن جاری ہوچکی ہو، لیکن پنشن انچارج پنشن کا عمل مکمل کرنے کے لئے کچھ پیسے طلب کر رہا ہو ، تو ایسی صورت میں اگر رشوت دئیے بغیر جائز طریقے سے اپنا حق وصول کرنا ممکن نہ ہو، تو رشوت دے کر اپنا حق وصول کرنے کی گنجائش معلوم ہوتی ہے، اور ایسی صورت میں سائل کی والدہ گناہ گار بھی نہ ہوگی ، مگر رشوت لینے والے کیلئے یہ رقم بہرحال ناجائز اور حرام ہے، جس کا استعمال اس کے لئے شرعاً جائز نہیں۔
کما فی اعلاء السنن: الرشوة ما يعطى لإبطال حق أو لإحقاق باطل، أما إذا أعطى ليتوصل به الى حق اوليدفع به عن نفسه ظلماً فلا بأس به الخ (ج15، ص 60، ط ادارة القرآن)۔
وفی البحر الرائق: بعد ما ظهر الفساد وتغيرت أحوال القضاء والعمال حتى لا يقيموا الحق إلا بالرشوة فيكون على هذا التقدير مصره أسهل لإثبات حقوقه اهـ (ج6، ص 229، ط: دارالکتاب الاسلامی)۔
وفی مرقاۃ المفاتیح: (وعن عبد الله بن عمرو رضي الله عنهما : بالواو (قال: «لعن رسول الله صلى الله عليه وسلم الراشي والمرتشي» ) : أي: معطي الرشوة وآخذها، وهى الوصلة إلى الحاجة بالمصانعة، وأصله من الرشاء الذي يتوصل به إلى الماء، قيل: الرشوة ما يعطى لإبطال حق، أو لإحقاق باطل، أما إذا أعطى ليتوصل به إلى حق، أو ليدفع به عن نفسه ظلما فلا بأس به، وكذا الآخذ إذا أخذ ليسعى في إصابة صاحب الحق فلا بأس به، لكن هذا ينبغي أن يكون في غير القضاة والولاة ; لأن السعي في إصابة الحق إلى مستحقه، ودفع الظالم عن المظلوم واجب عليهم، فلا يجوز لهم الأخذ عليه اھ (باب رزق الولاة وهداياهم، ج 6، ص 2437، رقم-3753، ط: دار الفکر)۔