میں حال ہی میں دبئی چلا گیا ہوں اب میں اپنی بیوی اور بیٹی کو منتقل کرنے کا ارادہ رکھتا ہوں،میری ماں ہے جو میری بہن کے ساتھ رہتی ہے جوکہ طلاق یافتہ ہے، اب جب میں اپنی اہلیہ اور چھوٹی بیٹی کو اپنے ساتھ یو اے ای منتقل کرنا چاہتا ہوں، میری والدہ کہتی ہیں کہ وہ اکیلی ہیں، میں اپنی ملازمت کے لیے متحدہ عرب امارات منتقل ہواہوں اور میں پاکستان میں اپنی والدہ کی کفالت کر سکتاہوں، میری ایک بڑی بہن بھی ہے جو شادی شدہ ہے اور کراچی میں رہتی ہے، میری شادی کے بعد میری والدہ کے ساتھ تعلقات زیادہ اچھے نہیں رہے، میری والدہ کو ہماری ازدواجی زندگی میں مداخلت کی عادت ہے، اور وہ صرف ہمارے ساتھ رہنا چاہتی ہیں لیکن میرے لیے یہ ممکن نہیں کہ میں اپنی والدہ کو بھی یو اے ای میں ساتھ رہنے کے لیے لاؤں، میں اپنی والدہ کی مالی مدد کروں گا،میں نے ان کے لئے کراچی میں ایک نیا گھر بھی خریدا ہے تاکہ وہ وہاں میری دوسری بہن کے ساتھ رہ سکیں جس کی اب طلاق ہو چکی ہے، میری بڑی بہن بھی جو شادی شدہ ہے، میری والدہ سے اکثر ملاقات کرتی رہتی ہیں، براہ کرم مجھے بتائیں کہ کیا میں اپنی والدہ کو یہاں یو اے ای میں نہیں رکھ سکتا کیونکہ یو اے ای میں اتنا بڑا گھر نہیں ہے صرف ایک اسٹوڈیو یا ایک اپارٹمنٹ ہے، اس لیے اگر میں اپنی والدہ کو رکھوں گا تو وہ ہماری پرسنل لائف میں مداخلت کریں گی، میری والدہ چاہتی ہے کہ میں اپنی بیوی اور چھوٹی بیٹی کو اپنے ساتھ نہ رکھوں اور میں پاکستان آتا رہوں، وہ کہتی ہے کہ وہ اکیلی رہ جائیں گی، براہ کرم میری رہنمائی فرمائیں اگر میں اپنی والدہ کے پاکستان میں رہتے ہوئے مالی طور پر ان کی دیکھ بھال کروں اور ان کی خلدمت کے لئے کسی کو مقرر کروں، اور ان کی مدد کے لیے ہر ممکن کوشش کروں، کیا یہ ٹھیک ہے کہ میں اپنی والدہ کو اگر ساتھ نہ رکھوں ، میری شادی کے بعد بہت سارے مسائل تھے ،اس لیے میں ان سے بچنا چاہتا ہوں اگر میں اپنی والدہ کو یہاں لاؤں تو مجھے معلوم ہے کہ میری والدہ کو ہمارے ازدواجی معاملات میں مداخلت کرنے کا موقع ملے گا، اس لیے اگر وہ ہمارے ساتھ رہتی ہیں ، ہماری پرسنل لائف کو برقرار رکھنا ممکن نہیں ہوگا،براہ مہربانی، مشورہ دیں۔
واضح ہوکہ قرآن وسنت کی رو سے والدین کی خدمت اور ان کے ساتھ حسن سلوک کی بہت زیادہ تاکید کی گئی ہے، اور ہر اس کام سے منع کیا گیا ہے جس سے ان کو معمولی سی بھی تکلیف ہوتی ہے، لہذا سائل کی والدہ اگر عمر کے اس حصہ میں پہنچ چکی ہوں کہ انہیں سائل کی خدمت کی ضرورت ہو اور سائل کے علاوہ ان کی خدمت اور دیکھ بال کے لئے کوئی موجود نہ ہو یا والدہ کو کسی دوسرے بندے کی خدمت پر اطمینان نہ ہو اور سائل کے بغیر تنہا رہائش اختیار کرنے کی صورت میں وحشت اور تکلیف کا سامنا ہو تو ایسی صورت میں سائل کو چاہیئے کہ یا تو والدہ کو بھی اپنے پاس یواے ای بلاکر اپنے ساتھ رکھے، یا گھر کے قریب ہی کوئی مناسب ذریعہ آمدن تلاش کرے تاکہ والدہ کی تکلیف ،وحشت اور پریشانی کا مداوہ ہوسکے، اور والدہ کو ساتھ رکھنے کی صورت میں والدہ کی طرف جو قول یا عمل طبیعت کے خلاف ناگوار معلوم ہو اس پر صبر سے کام لے کہ یہ بہت بری سعادت اور اجروثواب کا کام ہے۔
قال اللہ تعالی: وَبِالْوَالِدَيْنِ إِحْسَانًا إِمَّا يَبْلُغَنَّ عِنْدَكَ الْكِبَرَ أَحَدُهُمَا أَوْ كِلَاهُمَا فَلَا تَقُلْ لَهُمَا أُفٍّ وَلَا تَنْهَرْهُمَا وَقُلْ لَهُمَا قَوْلًا كَرِيمًا (سورۃ اسراء،رقم الآیۃ 23)۔
و فی الھندیۃ : وقال محمد رحمه الله تعالى في السير الكبير إذا أراد الرجل أن يسافر إلى غير الجهاد لتجارة أو حج أو عمرة و كره ذلك أبواه فإن كان يخاف الضيعة عليهما بأن كانا معسرين و نفقتهما عليه و ماله لا يفي بالزاد و الراحلة و نفقتهما فإنه لا يخرج بغير إذنهما سواء كان سفرا يخاف على الولد الهلاك فيه كركوب السفينة في البحر أو دخول البادية ماشيا في البرد أو الحر الشديدين أو لا يخاف على الولد الهلاك فيه و إن كان لا يخاف الضيعة عليهما بأن كانا موسرين و لم تكن نفقتهما عليه إن كان سفرا لا يخاف على الولد الهلاك فيه كان له أن يخرج بغير إذنهما و إن كان سفرا يخاف على الولد الهلاك فيه لا يخرج إلا بإذنهما كذا في الذخيرةاھ ( باب فی الرجل یخرج الی السفر ، ج 5 ، ص 365 ، ط : ماجدیہ )۔
وفیہ ایضاً: والأم إذا كانت فقيرة فإنه يلزم الابن نفقتها، وإن كان معسرا، أو هي غير زمنة، وإذا كان الابن يقدر على نفقة أحد أبويه، ولا يقدر عليهما جميعا فالأم أحق(فصل في نفقة ذوي الأرحام،ج1،ص565،ط:ماجدیہ)۔