حضرات مفتیانِ کرام السلام علیکم !
ایک لڑکی کی شادی سات سال پہلے ایک آدمی سے ہوئی،بقول اس کے دونوں میاں بیوی کی آپس میں نہیں بن سکی،اس نے حلفیہ کہا ہے کہ ہم میاں بیوی نے ان سات سالوں میں ایک بار بھی اکٹھے کھانا نہیں کھایا،خاوند کی طرف سے کوئی خرچہ بھی مقرر نہیں تھا،اس کا باپ ہی اس کو خرچہ پانی اور دوا علاج کے پیسے دیتا تھا،اس کا شوہر بات بات پر اس پر تشدد بھی کرتا تھا،ایک دن اس کا شوہر گھر پر نہیں تھا تو رات کے وقت اس کے دیور نے کمرے میں آکر اس کو جگا کر باہر پڑی اپنی چارپائی پر جانے کو کہا ،مگر اس نے دیور کو انکار کردیا،مسلسل انکار کے بعد اس کا دیور کلہاڑی اٹھالایا،اس کو کلہاڑی دکھاکر کہنے لگا میرے ساتھ چل، ورنہ کلہاڑی سے تیری گردن اُڑادونگا،اور کلہاڑی کا دستہ اس کی کلائی پر مارا جس سے اس کی چیخ اٹھی،اس کے چیخنے سے اس کے آس پاس سوئی ہوئی نندیں بھی جاگ گئیں اور اُنہوں نے بلب آن کیا تو اپنے بھائی کو اپنی بھابھی کے قریب کھڑا ہوا دیکھا،بلب آن ہونے اور اس کی بہنوں کے جاگنے کی وجہ سے وہ کمرے سے باہر پڑی اپنی چارپائی پر جاکر لیٹ گیا،اور پھر اس نے اپنے کمرے کو اندر سے کُنڈی لگاکر سوگئی،صبح ہوتے ہی اس نے اپنے سسر کو جوکہ اس کا ماموں بھی ہے ،سارا حال سُنایا تو اس کا سسر آگ بگولا ہوگیا اور اُس نے کلہاڑی اُٹھالی کہ تو ہمیں آپس میں لڑانا چاہتی ہے،میں تجھے زندہ نہیں چھوڑونگا،تب اس کی ممانی نندوں نے اس کے سسر کو پکڑلیا،اس کا اپنے والدین سے ٹیلیفونک رابطہ نہ ہونے کے برابر تھا، یعنی اس کے پا س اپنا موبائل تو تھا ہی نہیں،سسرال والوں کا جب دل کرتا تو وہ رابطہ کروادیتے تھے،چنانچہ اس واقعہ کی خبر اس کے والدین کو نہیں دی گئی،پھر جب اس کے شوہر کو اس واقعہ کا علم ہوا تو وہ راولپنڈی سے گھر واپس آگیا،اس نے اپنے شوہر سے کہا کہ مجھے میکے لے چلو،وہ جب میکے پہنچی تو سارا واقعہ اپنے والدین کو سُنایا جس پر اس کے والدین کو بہت صدمہ اور غصہ آیا،اور انہوں نے اس کی مرضی کے مطابق اس کو سسرال نہ بھیجنے کا فیصلہ کیا،وہ اپنے والدین کے گھر رہی اسی طرح سات آٹھ مہینے بیت گئے،اب اس نے ان سے طلاق لینے کا فیصلہ کرلیا کہ میں ایسے گھر میں نہیں رہ سکتی جہاں نہ خرچہ پانی ملتا ہے، نہ دوا وعلاج کیا جاتا ہےاور نہ ہی عزت محفوظ ہے،اور تشدد بھی سہنا پڑتا ہے،اس کے پُرزور مطالبہ کے بعد اس کا شوہر بھی طلاق دینے پر رضامند ہوگیا،چونکہ اس کے ایک نا بالغ بھائی کا شرعی نکاح اس کی نند سے ہوا تھا ،یعنی وٹہ سٹہ تھا،اس لئے دونوں فریق خلع وطلاق کے لئےایک دینی مدرسے میں گئے جہاں دو بھائی مفتی تھے،مفتی صاحب نے کہا چونکہ اس کا بھائی ابھی نابالغ ہے، اس لئےاُسے طلاق کا اختیار حاصل نہیں ہے البتہ یکطرفہ طلاق ہوسکتی ہے،جس پر اس کے شوہر اور سسر نے کہا پھر ہم بھی اس کو طلاق نہیں دیں گے،ہم بھی سات سال کے بعد طلاق دیں گے،جب ہماری والی کو طلاق ملے گی،پھر اس نے مجبوراً عدالت کا رُخ کیا،چند ماہ میں عدالت نے اس کو خلع کی ڈگری جاری کردی،اب پوچھنا یہ ہے کہ آیا عدالت کی طرف سے اس کو جاری کی گئی خلع کی ڈگری شرعی اعتبار سے قابلِ ِتسلیم ہوگی یا نہیں؟ اس کا دوسری جگہ نکاح صحیح ہوگا یا نہیں؟
مذکور لڑکی کا بیان اگر واقعۃً درست اور مبنی برحقیقت ہو اور اس میں کسی قسم کی دروغ گوئی اور الزام تراشی سے کام نہ لیا گیا ہو تومذکور لڑکی کے ساتھ اس کے دیور کا مذکور طرزِ عمل شرعاً ناجائز اور حرام تھا جس کی وجہ سے وہ اوراس کی حمایت کرنے والے سسر اور دیگر سسرال سب گناہ گار ہوئے ہیں لہذا اس پر انہیں بصدقِ دل توبہ واستغفار اور آئندہ کے لئے اس قسم کی حرکات سے احتراز لازم ہے۔
اس کے بعد واضح ہو کہ خلع بھی دیگر عقودِ مالیہ کی طرح ایک عقد ہے،جس کی درستگی کے لئے فریقین کی باہمی رضامندی اور باقاعدہ ایجاب وقبول شرط ہے،لہذا صورتِ مسئولہ میں اگر مذکور لڑکی کے شوہر یا اس کی جانب سے مقرر کردہ وکیل نے طلاق دینے یا خلع پر رضامندی کا اظہار نہ کیا ہو تو ایسی صورت میں عدالت کی جانب سے جاری کردہ یکطرفہ خلع کی ڈگری سے چونکہ میاں بیوی کا نکاح ختم نہیں ہوا،بلکہ بدستور برقرار ہے،اور مذکورلڑکی کا اس نکاح کو ختم کیے بغیر دوسری جگہ نکاح کرنے سے دوسرا نکاح شرعاً منعقد نہ ہوگا، اس لئے مذکور لڑکی کو چاہئیے کہ وہ مزید کسی آزمائش اور گناہ میں مبتلا ہونے کے بجائے مذکور لڑکے کو طلاق یا خلع پر آمادہ کرکے نکاح کوختم کرے،اور نکاح ختم ہونے کے بعد دوسری جگہ نکاح کرے،جبکہ لڑکے کے طلاق وغیرہ پر آمادہ نہ ہونے کی صورت میں خاندان کے سمجھدار اور بااثر افراد کو معاملہ سے آگاہ کرکے ان کے ذریعہ معاملات حل کرنے کی کوشش کرے، امید ہے اللہ تعالی بہتری کا معاملہ فرمائیں گے ۔
کما فی احکام القرآن للجصاص:وانما یوجہ الحکمان لیعظا الظالم منھما وینکرا علیہ ظلمہ واعلام الحاکم بذلک لیأخذ ھو علی یدہ فان کان الزوج ھو الظالم انکرا علیہ وقالا لہ لا یحل لک ان تؤذیھا لتخلع منک وان کانت ھی الظالمۃ قالا لھا قد حلت لک الفدیۃ وکان فی اخذھا معذورا لما یظھر للحکمین من نشوزھا فاذا جعل کل واحد منھما الی الحکم الی من قبلہ مالہ من التفریق والخلع کانا مع ما ذکرنا من امرھما وکیلین جائز لھما ان یخلعا ان رأیا وان یجمعا ان رأیا ذلک صلاحا فھما فی حال شاھدان وفی حال مصلحان وفی حال آمران بمعروف وناھیان عن منکر ووکیلان فی حال اذا فوض الیھما الجمع والتفریق الخ (ج2 ص193 سورۃ النساء ط: سھیل اکیڈیمی لاھور باکستان)۔
وفی صحيح البخاري: عن عبد الله بن عمر رضي الله عنهما، عن النبي صلى الله عليه وسلم قال: «الظلم ظلمات يوم القيامة»(ج3 ص129 باب الظلم ظلمات یوم القیامۃ ط: دار طوق النجاۃ)۔
وفی عمدة القاري شرح صحيح البخاري: قوله: (ولا يظلمه) ، نفي بمعنى الأمر وهو من باب التأكيد، لأن ظلم المسلم للمسلم حرام.(ج12 ص289 باب أعن أخاک ظالما أو مظلوما ط: دار إحیاء التراث العربی،بیروت)۔
وفی ردالمحتار تحت (قولہ للشقاق) ای لوجود الشقاق وھو الاختلاف والتخاصم وفی القھستانی عن شرح الطحاوی:السنۃ اذا وقع بین الزوجین اختلاف ان یجتمع اھلھما لیصلحوا بینھما،فان لم یصطلحا جاز الطلاق والخلع اھ وھذا ھو الحکم المذکور فی الآیۃ وقد اوضح الکام علیہ فی الفتح آخر الباب (الی قولہ) واما رکنہ فھو کما فی البدائع:اذا کان بعوض الایجاب والقبول لانہ عقد علی الطلاق بعوح فلا تقع الفرقۃ ولا یستحق العوض بدون القبول الخ (ج3 ص441 باب الخلع ط: سعید)۔
وفی الفتاوی التاتارخانیۃ: فی المخلص والایضاح: الخلع عقد یفتقر الی الایجاب والقبول یثبت الفرقۃ ویستحق علیھا العوض الخ (ج5 ص5 کتاب الطلاق الفصل السادس عشر فی الخلع ط:زکریا)۔