احکام حج

رمی جمرات کےلیے اپنا نائب مقرر کرنے کا حکم

فتوی نمبر :
74487
| تاریخ :
2024-07-11
عبادات / حج و عمرہ / احکام حج

رمی جمرات کےلیے اپنا نائب مقرر کرنے کا حکم

کیا فرماتے ہیں مفتیان کرام درج ذیل مسائل کے بارے میں کہ :
کیا رمی جمرات کے لئے کسی کو اپنا نائب مقرر کرنا جائز ہے ؟ منی میں قیام کی نوعیت کیا ہے ؟ اگر کوئی شخص اعمال حج مکمل کرلے ، جس کے بعد اسے مدینہ میں کچھ قیام کرکے ، واپس مکہ سے ہوکر وطن لوٹنا ہو ، ایسا شخص طواف وداع کب کریگا؟

الجوابُ حامِدا ًو مُصلیِّا ً

1۔واضح ہو کہ بلا عذر کسی کو رمی جمرات کے لئے اپنا نائب بنانا شرعاً جائز نہیں ،بلکہ صحت مند اور تندرست آدمی کے لئے جمرات کی ر می کرنا خود کرنا شرعا واجب ہے ، البتہ اگر کوئی ایسا مریض ہو جس کے لئے جمرہ تک جانے کی قدرت نہ ہو ، یا جمرہ تک جانے سے اسے مرض بڑھنے کا یقین ہو اور وہاں لے جانے کے لئے اسے سواری یا کوئی اور معاون بھی میسر نہ ہو ، یا جمرات تک جانے کے باوجود بوجہ ضعف یا بیماری کے رمی کرنے کی قدرت نہ ہو ، تو ایسی صورت میں اسے رمی جمرات کے لئے اپنا نائب مقرر کرنا جائز ہوگا۔
2۔آٹھ ذو الحجہ کو طلوع آفتاب کے بعد حالت احرام میں منی جا نا اور وہاں جاکر نو ذی الحجہ کی رات وہاں گزارنا ، اسی طرح گیارھویں ، بارہویں اور تیرہویں رات کا قیام کرنا سنت ہے ، ان پہلی تین راتوں کو بلا عذر منی کے علاو ہ کہیں اور ٹھہر نا خلاف سنت ہونے کی وجہ سے مکروہ ہے ، البتہ اگر کوئی ایسا کرلیتا ہے ،تو اس کا حج ادا ہوجائیگا ، اور اس کی وجہ سے اس پر کوئی دم لازم نہ ہوگا ، جبکہ بارہ ذو الحجہ کو مغرب سے پہلے منی سے چلے جانے کی صورت میں تیرہ ذی الحجہ کی رمی اور اس رات کا قیام ساقط ہوجاتا ہے۔
3۔ طواف وداع کا اول وقت طواف زیارت کے بعد ہے ، جبکہ آخر وقت کی کوئی تعیین نہیں ، بلکہ وطن واپسی سے قبل جس وقت بھی چاہے کرسکتا ہے ، البتہ مستحب یہ ہے کہ اعمال حج بلکہ تمام امور سے فراغت کے بعد ، وطن کی طرف سفر شروع کرنے سے پہلے طواف وداع کیا جائے ، لہذا صورت مسئولہ میں اعمال حج مکمل کرلینے اور مدینہ منورہ میں قیام کے بعد ، واپس مکہ سے وطن لوٹتے وقت طواف وداع کرنا بہتر ہوگا۔

مأخَذُ الفَتوی

کمافی غنیۃ الناسک : السادس : ان یرمی بنفسہ فلا تجوز النیابۃ فیہ عند القدرۃ ، وتجوز عند العذر (الی قولہ) وحد المریض ان یصیر بحیث یصلی جالسا ، لا نہ لایستطیع الرمی راکبا ، و لامحمولا اما لانہ تعذر علیہ الرمی اور یلحقہ بالرمی ضرر ، فان کان مریض لہ قدرۃ علی حضور الرمی محمولا و یستطیع الرمی ، کذالک من غیر ان یلحقہ الم شدید ، ولا یخاف زیادۃ المرض و لا بطء البرء لا یجوز النیابۃ عنہ الا ان لا یجد من یحملہ اھ (188)
وفی الفِقْهُ الإسلاميُّ وأدلَّتُهُ: و‌‌واجبات الحج كثيرة أهمها خمسة: السعي بين الصفا والمروة، والوقوف بمزدلفة ولو بمقدار لحظة في النصف الثاني من الليل، ورمي الجمار، والحلق أو التقصير، وطواف الصَّدَر (الوداع). علماً بأن الحلق والطواف بالبيت بعد الذبح، والذبح يختص بأيام النحر لا يجوز قبلها اھ (3/ 2146)
و فی غنیۃ الناسک : ویسن ان یبیت بمنی لیالی ایام الرمی فلوبات بغیرھا متعمدا کرہ لاشی علیہ عندنا وقال مالک و الشافعی رحمھما اللہ ھو واجب ینجبر بالدم اھ (179)
وفیھا ایضا : والحاصل ان المستحب فیہ ان یقع عند ارادۃ السفر بعد الفراغ من افعال الحج بل من جمیع اشغالہ و یعقبہ الخروج من غیر مکث اھ (191)

واللہ تعالی اعلم بالصواب
محمد کامران صادق عُفی عنه
دار الافتاء جامعه بنوریه عالمیه
فتوی نمبر 74487کی تصدیق کریں
0     942
Related Fatawa متعلقه فتاوی
Related Topics متعلقه موضوعات