السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ! سوال یہ ہے کہ ہم نے دو ٹیم کرکٹ گراؤنڈ میں میچ کھیلا، جس کے پیسے جو کرکٹ گراؤنڈ کے مالک ہیں، اس کو دونوں ٹیم کے ہر بندے نے پانچ سو روپے دئیے، ہمارا طے یہ ہوا کہ جو ٹیم جیتے گی اس کے ہر بندے کو پانچ سو (500) روپے واپس مل جائینگے، اور جو ہاریگی اس کے ہر بندے کو ہزار(1000) روپے کرکٹ گراؤنڈ کی فیس میں دینے ہونگے، تو کیا یہ جائز صورت ہے، جزاک اللہ خیراً۔
سوال میں کر کٹ میچ کھیلنے کی جو صورت ذکر کی گئی ہے، یہ جوئے اور قمار پر مشتمل ہونے کی وجہ سے شرعاً جائز نہیں، جس سے اجتناب لازم ہے۔
قال اللہ تعالی: يَاأَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا إِنَّمَا الْخَمْرُ وَالْمَيْسِرُ وَالْأَنْصَابُ وَالْأَزْلَامُ رِجْسٌ مِنْ عَمَلِ الشَّيْطَانِ فَاجْتَنِبُوهُ لَعَلَّكُمْ تُفْلِحُونَ ( سورۃ المائدہ آیۃ 90)۔
وفی ردالمحتار: تحت (قوله لأنه يصير قمارا) لأن القمار من القمر الذي يزداد تارة وينقص أخرى، وسمي القمار قمارا لأن كل واحد من المقامرين ممن يجوز أن يذهب ماله إلى صاحبه، ويجوز أن يستفيد مال صاحبه وهو حرام بالنص،الخ(ج1 ص403 کتاب الحظر والاباحۃ فصل فی البیع ط سعید)۔