نکاح

مطلقہ سے عدت کے بعد نکاح کا حکم

فتوی نمبر :
74329
| تاریخ :
2024-07-04
معاملات / احکام نکاح / نکاح

مطلقہ سے عدت کے بعد نکاح کا حکم

کیا فرماتے ہیں مفتیانِ کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ ایک لڑکی کی شادی ہوئی تھی،لیکن اس نے خلوت کے بعد اپنے شوہر سے طلاق لے لی ،جس کا طلاق نامہ منسلک ہے،اب عدت کا دورانیہ بھی مکمل ہوچکا ہے،لہذا اب میں اس سے نکاح کرنا چاہتا ہوں،لہذا آپ رہنمائی فرمائیں کہ اب اس کے ساتھ نکاح کرنا درست ہے یا نہیں؟

الجوابُ حامِدا ًو مُصلیِّا ً

سوال کے ساتھ منسلکہ طلاق نامہ اگر مطابقِ اصل ہو،اور شوہر نے بلاجبر واکراہ اپنی مرضی سے اس پر دستخط کیے ہوں تو لڑکا و لڑکی کے درمیان خلوتِ صحیحہ ہوجانے کے بعد شوہر کا منسلکہ تین طلاقوں پر مشتمل طلاق نامہ پر دستخط کرنے سے مذکور لڑکی پر طلاق نامہ میں درج تینوں طلاقیں واقع ہوکر حرمتِ مغلظہ ثابت ہوچکی ہے،اب رجوع نہیں ہوسکتا،اور حلالۂ شرعیہ کے بغیر باہم عقدِ نکاح بھی نہیں ہوسکتا جبکہ لڑکی ایامِ عدت گزرنے کے بعد دوسری جگہ نکاح کرنے میں بھی آزاد ہوگی،لہذا اس کی عدت مکمل ہونے کے بعد سائل کے لئے اس سے نکاح کرنا بھی جائز و درست ہوگا۔

مأخَذُ الفَتوی

قال اللہ تعالٰی : فان طلقھا فلاتحل لہ من بعد حتی تنکح زوجا غیرہ ( سورۃ البقرۃ آیت230)۔
وفی احکام القرآن للجصاصؒ: ( فلاتحل لہ من بعد حتی تنکح زوجا غیرہ) فحکم بتحریمھا علیہ بالثالثۃ بعد الاثنین و لم یفرق بین ایقاعھما فی طھر واحد او فی اطھار فوجب الحکم بایقاع الجمیع علی ایّ وجہ اوقعہ الخ (ج1 ص386 ط: سھیل اکیڈیمی لاھور باکستان ) ۔
و فی الہندیۃ: وان کان الطلاق ثلاثا فی الحرۃ(الی قولہ)لم تحل لہ حتی تنکح زوجا غیرہ نکاحا صحیحاو یدخل بھا ثم یطلقھا او یموت عنھا کذا فی الھدایہ اھ(کتاب الطلاق 1/ 506ط: ماجدیۃ)۔
وفیھا أیضاً: الكفاءة معتبرة في الرجال للنساء للزوم النكاح، كذا في محيط السرخسي ولا تعتبر في جانب النساء للرجال، كذا في البدائع. فإذا تزوجت المرأة رجلا خيرا منها؛ فليس للولي أن يفرق بينهما فإن الولي لا يتعير بأن يكون تحت الرجل من لا يكافئوه، كذا في شرح المبسوط للإمام السرخسي الخ(ج1 ص290 کتاب النکاح ط: ماجدیۃ)۔
وفیھا أیضاً: لا يجوز نكاح أحد على بالغة صحيحة العقل من أب أو سلطان بغير إذنها بكرا كانت أو ثيبا فإن فعل ذلك فالنكاح موقوف على إجازتها فإن أجازته؛ جاز، وإن ردته بطل، كذا في السراج الوهاج الخ (ج1 ص287 کتاب النکاح الباب الرابع فی الاولیاء ط: ماجدیۃ)۔
وفیھا أیضاً: إذا طلق الرجل امرأته طلاقا بائنا أو رجعيا أو ثلاثا أو وقعت الفرقة بينهما بغير طلاق وهي حرة ممن تحيض فعدتها ثلاثة أقراء سواء كانت الحرة مسلمة أو كتابية كذا في السراج الوهاج الخ(ج1 ص526 کتاب الطلاق ط: ماجدیۃ)۔

واللہ تعالی اعلم بالصواب
محمد ابراہیم اسماعیل عُفی عنه
دار الافتاء جامعه بنوریه عالمیه
فتوی نمبر 74329کی تصدیق کریں
0     637
Related Fatawa متعلقه فتاوی
Related Topics متعلقه موضوعات