السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ! کیا فرماتے ہیں مفتیانِ کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ:
اگر ایک لڑکی شادی سے پہلے ایک آدمی کے ساتھ جسمانی تعلق میں رہی ہو اور وہ بھی کئی سال،یعنی زنا کیا وہ لڑکی پھر اسی آدمی کے بیٹے کے ساتھ نکاح کرسکتی ہے؟
یہ حقیقت پر مبنی واقعہ ہے،کیوں کہ اب لڑکی اسی کے بیٹے کے ساتھ شادی کرنا چاہتی ہے،کیا ایسا ممکن ہے؟ فتوی جاری کریں۔
کسی بھی لڑکے و لڑکی کا نکاحِ شرعی کے بغیر جسمانی تعلق قائم کرتے ہوئے زنا کرنا انتہائی قبیح فعل اور سنگین جرم ہے ، اگر اسلامی سزائیں نافذ العمل ہوتی تو ثبوتِ جرم کے بعد ان دونوں پر شرعی حد (سزا) جاری کی جاتی ،لہذا اولا تو ان دونوں پر اپنے اس ناجائز و حرام فعل کے ارتکاب پر بصدقِ دل توبہ و استغفار کرنا لازم ہے ، جبکہ جس شخص سے مذکور لڑکی کا جسمانی تعلق قائم ہوا ہے ، تو اس تعلق (زنا) کی وجہ سے ان کے درمیان حرمتِ مصاہرت ثابت ہو کر اس لڑکی پر شخص مذکور کے اصول و فروع ( ابا ؤاجداد اور اولاد) ہمیشہ کیلئے حرام ہو چکے ہیں لہذا اب اس لڑکی کے لیے اس شخص کے بیٹے کے ساتھ نکاح کرنا جائز نہیں ، بلکہ یہ نکاح منعقد ہی نہ ہوگا، جس سے اسے احتراز لازم ہے ۔
کما فی الدر المختار: (حرم) على المتزوج ذكرا كان أو أنثى نكاح (أصله وفروعه) علا أو نزل (وبنت أخيه وأخته وبنتها) ولو من زنى الخ (کتاب النکاح ج 3 صـ 29 ط: سعید)
وفیہ ایضاً: (و) حرم أيضا بالصهرية (أصل مزنيته) أراد بالزنا في الوطء الحرام (و) أصل (ممسوسته بشهوة) الخ (کتاب النکاح ج 3 صـ 32 ط: سعید)
وفی الھندیۃ: فمن زنى بامرأة حرمت عليه أمها وإن علت وابنتها وإن سفلت، وكذا تحرم المزني بها على آباء الزاني وأجداده وإن علوا وأبنائه وإن سفلوا الخ (کتاب النکاح الباب الثالث ج 1 صـ 274 ط: ماجدیۃ)