کیا فرماتے ہیں مفتیانِ کرام کہ میری بہن کا شوہر نہ اس کی شرعی ضروریات پوری کرتا تھا،اور نہ ہی عزت سے گھر میں بساتا تھا،مجبوراً میری بہن نے عدالت میں خلع نامہ کی درخواست دی،عدالت کی طرف سے ان کو تین بار نوٹس دیا گیالیکن وہ عدالت میں حاضر نہ ہوئےاور عدالت نے ہمارے حق میں یکطرفہ خلع کا فیصلہ دے دیا،اس کے بعد جب ہم نے جہیز کا سامان لینے کے لیے بات کی تو انہوں نے کہا آپ نے خلع لیا ہے،لہذا پہلے ہمارا حقِ مہر واپس کرو پھر عدالت کے روبرو ان کو ان کا حقِ مہر بھی واپس کردیا تو ہم نے ان سے طلاق نامہ پر دستخط کرنے کا مطالبہ کیا جس پر ان کے وکیل نے یہ کہہ کر انکار کردیا کہ آپ تو خلع لے چکے،اب دستخط کس بات کی،اوریہی بات جج نے بھی کی کہ آپ کا خلع ہوچکا ہے،تو اس صورت میں شرعی طور پر خلع ہوچکا ہےیا نہیں؟ اگر نہیں ہوا تو ہماری مکمل شرعی رہنمائی فرمائیں
واضح ہو کہ خلع بھی دیگر عقودِ مالیہ کی طرح ایک عقد ہے،جس کی درستگی کے لیے فریقین کی باہمی رضامندی اور باقاعدہ ایجاب وقبول شرط ہے،لہذا صورتِ مسؤلہ میں اگر سائل کی بہن کے شوہر یا اس کی جانب سے مقرر کردہ وکیل نے عدالت میں حاضر ہوکر خلع کے پیپرز پر دستخط نہ کیے ہوں،بلکہ جج نے یکطرفہ خلع کی ڈگری جاری کی ہو تو اس یکطرفہ جاری کردہ خلع کی ڈگری سے چونکہ میاں بیوی کا نکاح ختم نہیں ہوا،بلکہ بدستور برقرار ہے،لہذا مذکور یکطرفہ خلع کی ڈگری کی بنیاد پر سائل کی بہن کا دوسری جگہ نکاح کرنا شرعا ً جائز نہیں جس سے احتراز لازم ہے۔
تاہم اگر ہر ممکن کوشش کے باوجود دونوں کا نباہ ممکن نہ ہو اور ہر وقت کے لڑائی جھگڑوں کی وجہ سے حدود اللہ پر قائم رہتے ہوئے اس رشتہ کو برقرار رکھنا مشکل ہو تو ایسی صورت میں عورت طلاق بالمال یاقواعدِ شرعیہ کے مطابق خلع کے ذریعہ شوہر سے خلاصی حاصل کرسکتی ہے۔
کما فی احکام القرآن للجصاص:وانما یوجہ الحکمان لیعظا الظالم منھما وینکرا علیہ ظلمہ واعلام الحاکم بذلک لیأخذ ھو علی یدہ فان کان الزوج ھو الظالم انکرا علیہ وقالا لہ لا یحل لک ان تؤذیھا لتخلع منک وان کانت ھی الظالمۃ قالا لھا قد حلت لک الفدیۃ وکان فی اخذھا معذورا لما یظھر للحکمین من نشوزھا فاذا جعل کل واحد منھما الی الحکم الی من قبلہ مالہ من التفریق والخلع کانا مع ما ذکرنا من امرھما وکیلین جائز لھما ان یخلعا ان رأیا وان یجمعا ان رأیا ذلک صلاحا فھما فی حال شاھدان وفی حال مصلحان وفی حال آمران بمعروف وناھیان عن منکر ووکیلان فی حال اذا فوض الیھما الجمع والتفریق الخ (ج2 ص193 سورۃ النساء ط: سھیل اکیڈیمی لاھور باکستان)۔
وفی ردالمحتار تحت (قولہ للشقاق) ای لوجود الشقاق وھو الاختلاف والتخاصم وفی القھستانی عن شرح الطحاوی:السنۃ اذا وقع بین الزوجین اختلاف ان یجتمع اھلھما لیصلحوا بینھما،فان لم یصطلحا جاز الطلاق والخلع اھ وھذا ھو الحکم المذکور فی الآیۃ وقد اوضح الکام علیہ فی الفتح آخر الباب (الی قولہ) واما رکنہ فھو کما فی البدائع:اذا کان بعوض الایجاب والقبول لانہ عقد علی الطلاق بعوح فلا تقع الفرقۃ ولا یستحق العوض بدون القبول الخ (ج3 ص441 باب الخلع ط: سعید)۔
وفی فتاوی التاتارخانیۃ: فی المخلص والایضاح: الخلع عقد یفتقر الی الایجاب والقبول یثبت الفرقۃ ویستحق علیھا العوض الخ (ج5 ص5 کتاب الطلاق الفصل السادس عشر فی الخلع ط:زکریا)۔