نکاح

غیر سید کا سید سے نکاح کرنے کا حکم

فتوی نمبر :
73952
| تاریخ :
2024-06-16
معاملات / احکام نکاح / نکاح

غیر سید کا سید سے نکاح کرنے کا حکم

السلام علیکم ورحمۃ اللہ و برکاتہ! سلام کے بعد عرض ہے کہ میں ایک سُنّی لڑکا ہوں، میری قوم قُطب شاہی اعوان ہے۔ میں ایک سُنّی سیّد لڑکی سے نکاح کرنا چاہتا ہوں، اور میرے لیے اس نکاح کا کیا شرعی حکم ہے؟ لڑکی خود بھی اس رشتے پر راضی ہے، لیکن لڑکی کے گھر والے اس رشتے میں رکاوٹ ڈال رہے ہیں اور ان کا کہنا ہے کہ سیّد اور غیر سیّد کا نکاح نہیں ہو سکتا۔

الجوابُ حامِدا ًو مُصلیِّا ً

واضح ہو کہ سید زادی کا نکاح اولیاء کی اجازت کے بغیر غیر سید سے درست نہیں، البتہ سیدہ لڑکی کے اولیاء اگر غیر سید کے ساتھ نکاح پر راضی ہوں تو ایسا نکاح بلاشبہ جائز اور درست ہے۔ لہذا صورتِ مسئولہ میں مذکور لڑکی کے اولیاء اگر اس رشتے سے راضی ہو جاتے ہیں تو شرعاً سائل کا مذکور لڑ کی سے نکاح کرنا جائز ہوگا ، ورنہ غیر کفؤ ہونے کی وجہ سے لڑکا لڑکی کا چھپ کر نکاح کرناغیر مناسب حرکت ہونےکے ساتھ ساتھ یہ نکاح سرے سے منعقد ہی نہ ہوگا، لہذا اس سے احتراز لازم ہے۔

مأخَذُ الفَتوی

‌‌ کما فی الدر المختار:باب الكفاءة من كافأه: إذا ساواه، والمراد هنا مساواة مخصوصة أو كون المرأة أدنى (‌الكفاءة ‌معتبرة) في ابتداء النكاح للزومه أو لصحته (من جانبه) أي الرجل، لان الشريفة تأبى أن تكون فراشا للدنئ، ولذا (لا) تعتبر (من جانبها) لان الزوج مستفرش فلا تغيظه دناءة الفراش، وهذا عند الکل فی الصحیح اھ(باب الکفاءۃ، ج: 3، ص: 48، ناشر: سعید)-
وفی بدائع الصنائع: وأما الثاني فالنكاح الذي الكفاءة فيه شرط لزومه هو ‌إنكاح ‌المرأة ‌نفسها من غير رضا الأولياء لا يلزم حتى لو زوجت نفسها من غير كفء من غير رضا الأولياء لا يلزم. وللأولياء حق الاعتراض؛ لأن في الكفاءة حقا للأولياء؛ لأنهم ينتفعون بذلك ألا ترى أنهم يتفاخرون بعلو نسب الختن، ويتعيرون بدناءة نسبه، فيتضررون بذلك، فكان لهم أن يدفعوا الضرر عن أنفسهم بالاعتراض اھ (‌‌فصل شرط كفاءة الزوج في إنكاح المرأة الحرة، ج: 2، ص : 317، ناشر: دار الکتب العلمیۃ)-

واللہ تعالی اعلم بالصواب
بشیر احمد جمعہ عُفی عنه
دار الافتاء جامعه بنوریه عالمیه
فتوی نمبر 73952کی تصدیق کریں
0     245
Related Fatawa متعلقه فتاوی
Related Topics متعلقه موضوعات