احکام حج

سونے کی وجہ سے حج لازم ہونے کا حکم

فتوی نمبر :
73265
| تاریخ :
2024-05-20
عبادات / حج و عمرہ / احکام حج

سونے کی وجہ سے حج لازم ہونے کا حکم

میری والدہ ہے، ان کے پاس حج کے لئے پیسے نہیں ہیں، بس ہمارے پاس سونا ہے تو ہمیں کیا کرنا چاہیئے؟

الجوابُ حامِدا ًو مُصلیِّا ً

واضح ہو کہ حج فرض ہونے کے لئے شرط یہ ہے کہ آدمی کی ملکیت میں حوائج اصلیہ (اپنا اور اہل وعیال کا نفقہ اور رہائش کے اخراجات) سے زائد اس قدر مال ہو کہ جس سے وہ حج پر آنے والے اخراجات پورے کرسکے ، تو ایسے شخص پر حج لازم ہے ، چنانچہ صورتِ مسئولہ میں اگر سائل کی والدہ کے پاس حج پر جانے کے لئے اخراجات نہ ہوں تو شرعاً ان پر حج فرض نہیں ہے، تاہم اگر اولاد اپنی والدہ کو حج پر بھیجنا چاہتی ہے اور ان کے پاس مال (چاہے سونے یا چاندی وغیرہ کی شکل میں ہو) موجود ہو تو اپنی والدہ کو حج پر بھیج سکتے ہیں، یہ ان کے لئے باعثِ اجر و ثواب ہونے کے ساتھ ساتھ سعادت مندی بھی ہوگی، تاہم ایسا کرنا اولاد پر لازم نہیں اور نہ کرنے سے اولاد گنہگار نہ ہوگی۔

مأخَذُ الفَتوی

وقال اللہ تعالی: وَلِلَّهِ عَلَى النَّاسِ حِجُّ الْبَيْتِ مَنِ اسْتَطَاعَ إِلَيْهِ سَبِيلًا (اٰل عمران،آیت،۹۷)۔
(ومنها القدرة على الزاد والراحلة) (الی قولہ) وتفسير ملك الزاد والراحلة أن يكون له مال فاضل عن حاجته، وهو ما سوى مسكنه ولبسه وخدمه، وأثاث بيته قدر ما يبلغه إلى مكة ذاهبا وجائيا راكبا لا ماشيا الخ (ج۱، ص۲۱۷)۔
و فی البحرالرائق: (قوله: بشرط حرية وبلوغ وعقل وصحة وقدرة زاد وراحلة فضلت عن مسكنه وعما لا بد منه ونفقة ذهابه وإيابه وعياله) الخ (ج۲، ص۳۳۴)۔

واللہ تعالی اعلم بالصواب
محمد صدیق سردار عُفی عنه
دار الافتاء جامعه بنوریه عالمیه
فتوی نمبر 73265کی تصدیق کریں
0     765
Related Fatawa متعلقه فتاوی
Related Topics متعلقه موضوعات