نکاح

جعلی نکاح نامہ بنوانے کے بعد لڑکی کا کسی اور سے نکاح کرنا

فتوی نمبر :
73054
| تاریخ :
2024-05-10
معاملات / احکام نکاح / نکاح

جعلی نکاح نامہ بنوانے کے بعد لڑکی کا کسی اور سے نکاح کرنا

السلام علیکم ورحمۃ اللّٰہ وبرکاتہ!
میرا سوال یہ ہے کہ اگر کوئی کنوارے مرد و عورت محض بیرون ملک جانے کیلئے پیپر میرج کر لیں تو بعد میں اس عورت کو کسی دوسرے مرد سے حقیقی شرعی نکاح کرنے کیلئے پہلے والے ( پیپر میرج والے) مرد سے طلاق لینا ضروری ہوگی یا نہیں ؟اگر ہوگی تو طلاق کیسے دی جائے گی؟جبکہ نکاح ایجاب و قبول کا نام ہے، یہاں صرف پیپرز بنے ہیں۔

الجوابُ حامِدا ًو مُصلیِّا ً

واضح ہو کہ نکاح کی صحت و درستگی کے لئے مجلسِ نکاح میں گواہوں کی موجودگی میں لڑکا لڑکی یا ان کی طرف سے مقرر کردہ وکیلوں کا باقاعدہ ایجاب و قبول کرنا لازم و ضروری ہے، صرف نکاح فارم پُر کرنے سے نکاح نہ ہوگا ، لہٰذا بیرونِ ملک جانے کے لئے لڑکا و لڑکی کا گواہوں کی موجودگی میں ایجاب و قبول کیے بغیر عدالت جاکر محض نکاح کے کاغذات تیار کروا کر فقط ان پر دستخط کرنے سے شرعاً نکاح منعقد نہیں ہوگا ، بلکہ ایسا کرنے کے باوجود لڑکا و لڑکی بدستور ایک دوسرے کے لئے نا محرم اور اجنبی ہوں گے ، اس لئے ایسی لڑکی دوسری جگہ طلاق لیے بغیر نکاح کرنے میں آزاد ہوگی۔

مأخَذُ الفَتوی

کما فی التاترخانیۃ: و فی الخانیۃ: من شرائط النکاح عندنا ( الی قولہ ) و فی نصاب الذرائع: وشرطہ ان یکون کلا شطریہ بحضور شاھدین حرین عاقلین بالغین مسلمین او حضور رجل و امرأتین الخ ( الفصل السادس فی الشھادۃ فی النکاح ج 1 ص 608 ط: ادارۃ القرآن ) ۔
و فی الدر المختار: ( و ) شرط ( حضور ) شاھدین ( حرین ) أو حر و حرتین ( مکلفین سامعین قولھما معاً ) علی الاصح الخ ( کتاب النکاح ج 3 ص 21 ط: سعید ) ۔

واللہ تعالی اعلم بالصواب
محمد مبارز الیاس عُفی عنه
دار الافتاء جامعه بنوریه عالمیه
فتوی نمبر 73054کی تصدیق کریں
0     838
Related Fatawa متعلقه فتاوی
Related Topics متعلقه موضوعات