میرا بیٹا جس کا نام بدر زمان ہے مجھے کتنی دفعہ کہہ چکا ہے کہ میں تم کو باپ تسلیم نہیں کرتا ہوں ،مزدوری نہ کرنے پر نصیحت کرنے پر مجھے ماں کی گندی گالی دیتا ہے ، کتنی دفعہ مجھے مارنے کو اٹھا ہے گھروالوں نے پکڑا ہےور نہ تو مجھے مارتا تھا ، کیا قرآن اور حدیث کی روشنی میں مجھے حق ہے کہ اس کو اس نافرمانی کی وجہ سے میں عاق کردوں ؟اس آدمی کو جو لوگ سپورٹ کرتے ہیں ان کے بارے میں کیا رائے ہے ؟
سوال میں ذکر کردہ بیان اگر واقعۃً درست اور مبنی بر حقیقت ہو تو سائل کے بیٹے کا سائل کا ادب واحترام کرنے کے بجائے اس سے بد تمیزی اور بے اکرامی سے پیش آنا شرعاً ناجائز اور حرام ہے جس کی وجہ سے وہ سخت گناہ گار ہو رہا ہے , اس پر لازم ہے کہ اپنے مذکور طرز ِعمل پر اپنے والد سے معافی مانگنے کے ساتھ اللہ تعالی کے حضور بصدقِ دل توبہ واستغفار کرے اور آئندہ کے لئے والد کی بے اکرامی سے بچنے کا اہتمام کرے ، چنانچہ اگر سائل کا بیٹا توبہ تائب ہوکر فرمانبرداربن جاتا ہے تو پھر سائل کو اسے عاق نہیں کرنا چاہیئے،البتہ اگر وہ سمجھانے کے باوجود اپنے مذکور طرزِ عمل سے باز نہیں آیا تو ایسی صورت میں سائل اسے عاق بھی کرسکتا ہے،لیکن عاق نامہ لکھنے سے سائل کا بیٹا سائل کی جائیداد سے محروم نہ ہوگا ،بلکہ اگر وہ زندہ رہا تو سائل کی وفات کے بعد وہ بھی دیگر اولاد کی طرح سائل کے ترکہ میں حصہ دار ہوگا،البتہ اگر سائل اپنی بقیہ زندگی کے لئےمحتاط اندازے کے مطابق اپنی جائیداد سے جو کچھ رکھنا چاہے وہ رکھ کر بقیہ مال وجائیداد مذکور نافرمان بیٹے کے علاوہ باقی تمام اولاد میں تقسیم کرکے ہر فرد کو اس کے حصہ پر باضابطہ مالکانہ قبضہ دیدے تو ایسی صورت میں ہر شخص اپنے اپنے حصے کا مالک بن جائیگا اور مذکور بیٹا جائیداد سے محروم ہو جائیگا ،جبکہ سائل کے عزیز واقارب وغیرہ میں کچھ لوگو ں کا سائل کے بیٹے کوسمجھانے کے بجائے اس کا ساتھ دینا اور والد کی بے اکرامی اور بے احترامی پر اسے ابھارنا انتہائی شنیع عمل ہے ، جس سے انہیں اجتناب لازم ہے۔
کما قال اللہ تعالی: إِمَّا يَبۡلُغَنَّ عِندَكَ ٱلۡكِبَرَ أَحَدُهُمَآ أَوۡ كِلَاهُمَا فَلَا تَقُل لَّهُمَآ أُفّٖ وَلَا تَنۡهَرۡهُمَا وَقُل لَّهُمَا قَوۡلٗا كَرِيمٗا الایۃ(الاسراء۔آیۃ23 )۔
وقولہ تعالی ایضا: وَلَا تَعَاوَنُواْ عَلَى ٱلۡإِثۡمِ وَٱلۡعُدۡوَٰنِۚ وَٱتَّقُواْ ٱللَّهَۖ إِنَّ ٱللَّهَ شَدِيدُ ٱلۡعِقَابِ الایۃ( مائدہ۔آیۃ 2 )۔
وفی تنویر الابصار :(وموانعہ) (الرق) (والقتل) (واختلاف الدین) (واختلاف الدارین)الخ(ج 6 ص 766 ط:سعید)۔