میں ایک لڑکی سے رشتہ ازدواج میں بندھنا چاہ رہا ہوں، وہ خلع یافتہ ہے، میں اپنے نکاح نامے میں اس کی پہلی شادی کا ذکر نہیں چاہتا اور نہ ہی گھر والوں کو بتانا چاہ رہاہوں، تاکہ مستقبل میں رشتہ داروں کی طعنہ زنی سے بچ سکوں، اس کے بارے میں کوئی شرعی حکم ہے تو مہربانی فرماکر بتادیجئے ،شکریہ۔
مذکور لڑکی نے اگر اپنے سابق شوہر کی اجازت ورضامندی سے اس سے خلع لیا ہو، اور اب مذکور لڑکی کی عدت بھی گزرچکی ہو تو ایسی صورت میں سائل کے لئے اس سے نکاح کرنا شرعاً جائز اور درست ہوگا، جبکہ طلاق یافتہ یا خلع یافتہ سے نکاح کرنا چونکہ کوئی معیوب اور عار کی بات نہیں، اس لئے اس کی وجہ سے رشتہ داروں کا سائل پر طعن وتشنیع کرنا اور سائل کے لئے جان بوجھ کر نکاح نامہ میں جھوٹ اور غلط بیانی سے کام لینا درست نہیں جس سے احتراز لازم ہے۔
قال اللہ تعالی: فَانْكِحُوا مَا طَابَ لَكُمْ مِنَ النِّسَاءِ مَثْنَى وَثُلَاثَ وَرُبَاعَ فَإِنْ خِفْتُمْ أَلَّا تَعْدِلُوا فَوَاحِدَةً أَوْ مَا مَلَكَتْ أَيْمَانُكُمْ ذَلِكَ أَدْنَى أَلَّا تَعُولُوا(سورۃ النساء آیۃ 3)۔
وفی الھدایۃ: ولا ینعقد نکاح المسلمین الا بحضور شاھدین حرین عاقلین بالغین مسلمین رجلین او رجل وامراتین عدولا کانوا او غیر عدول او محدودین فی القذف الخ(ج1 ص 326 کتاب النکاح ط رحمانیہ)۔