والدین کے حقوق

بیٹوں کی موجودگی میں شادی شدہ بیٹی پر والدین کی خدمت کا حکم

فتوی نمبر :
72773
| تاریخ :
2024-04-28
معاشرت زندگی / حقوق و فرائض / والدین کے حقوق

بیٹوں کی موجودگی میں شادی شدہ بیٹی پر والدین کی خدمت کا حکم

محترم جناب قاری صاحب !
السلام علیکم! مجھے آپ سے یہ پوچھنا ہے کہ میرے والد صاحب جن کی 5 بیٹیاں اور دو بیٹے ہیں، سب بچے شاد ی شدہ ہیں، بڑا بیٹا اپنا مکان الگ بنا کر وہاں رہائش پذیر ہے، جبکہ چھوٹا بیٹا جو سب بہن بھائیوں میں چھوٹا ہے، وہ والد صاحب کے ساتھ ان کے گھر میں ہی رہائش پذیر ہے، میرے والد صاحب نے اپنی زندگی میں ہی اپنی وراثت اپنے بچوں میں تقسیم کردی ہے، ان کے پاس 1 مکان ہے ، جو کہ بیٹیوں کے نام پر اور اس میں 2 حصے والد صاحب کے نام پر ہیں ، جبکہ 2 عدد دکانیں الگ الگ دونوں بیٹوں کے نام کر کے ان کو دیدی گئی ہیں، جو کہ ان کے استعمال میں ہیں اور مکان میں والد صاحب کا جو حصہ اور 5 بیٹیوں کا حصہ ہے،ان میں سے والد کے 2 حصے دونوں بیٹوں کو ملیں گے، جو کہ چھوٹا بیٹا اپنے استعمال میں لے رہا ہے، والد صاحب بیٹیوں کے گھروں میں کم ہی آیا جایا کرتے ہیں کہ داماد کے گھر میں زیادہ دن اچھا نہیں لگتا، سب بیٹیاں دور دور رہائش پذیر ہیں، ایک بڑی بیٹی جو والد صاحب کے گھر کے قریب ہی چند گلیوں کے فاصلے پر رہتی ہے، والد صاحب کچھ عرصہ بیمار رہے تو بڑی بیٹی نے والد صاحب کو اپنے گھر لے جا کر ان کی خدمت کی ، ایک بار 8 ماہ اور ایک بار 7 ماہ سنبھالا، جب والد صاحب بہتری کی طرف آئے تو اچانک چھوٹا بیٹا بہن کے گھر سے والد صاحب کو یہ کہہ کر لے گیا کہ اچھا نہیں لگتا بیٹی کے گھر باپ کا رہنا، کیا اچھا لگے گا بیٹی کے گھر سے باپ کا جنازہ نکلےگا، کچھ ماہ بعد والد صاحب کی طبیعت خراب ہونے لگی اور وہ بہت بیمار رہنے لگے ، جب بھی کوئی بیٹی ملنے جاتی، چھوٹا بیٹا ذلیل کرتا، لڑتا اور گلے شکوے کرتا، ہر بار کا معمول بنا رکھا تھا، بیٹیوں نے آنا جانا کم کردیا، کبھی کبھی والد صاحب کو ملنے جاتی، اس پر بھی لڑتا کہ 7 اولادیں ہیں، پھر بھی کوئی نہیں سنبھالتا، سب کی میں نے اکیلے ذمہ داری سنبھالی ہے، بیٹیوں کی ذمہ داری ہے کہ وہ سنبھالیں باپ کو جبکہ بیٹوں کو 2 دکانیں الگ الگ دی گئی تھی والد صاحب کی حیات میں ہی وہ استعمال کررہے تھے،جبکہ والد صاحب کے گھر پر اوپر 3 پورشن کرائے پر دیئے ہوئے ہیں جو کہ ان کی آمدنی کا ذریعہ ہے( جو بیٹیوں اور باپ کے حصے میں ہیں ) جو کہ چھوٹا بیٹا والد کی حیات میں بھی ان کے لئے استعمال کررہا تھا، لیکن اب ان کے انتقال کے بعد بھی استعمال کررہا ہے عرصہ چار ماہ سے ہم میں سے کسی نے کوئی اعتراض نہیں کیا، لیکن اب جب بھی جہاں بھی ملتا ہے ہر بار اس کا یہی تقاضا ہوتا ہے کہ بیٹیوں نے باپ کو نہیں سنبھالا ، 7 اولادوں کی خدمت میں نے اکیلے کی ہے، جب اس کو کہا کہ بھائی بیٹیوں کو کیوں بولتا ہے؟ ان کا حق اپنے سسرال والوں کو دیکھنا ہے نہ کہ والدین کو تو پھر وہ لڑتا ہے، جاؤ قرآن کا ترجمہ پڑھو، مولانا سے پوچھو، فتوٰی لو پھر بات کرنا، اس نے ذہنی طور پر ہمیں پریشان کیا ہوا ہے، ذہنی ٹارچر کرتا ہے، میں نے بہنوں کے لئے کیا کچھ نہیں کیا، جناب قاری صاحب جب دیکھو طعنے مارتا ہے 7 اولاد ہونے کا، جب والدہ بیمار تھیں تو بیٹیوں نے ہی سنبھالا تھا ، دونوں بھائیوں کی بیویاں میکے جاکر بیٹھ جاتی تھیں، ہم بیٹیوں نے ہی باری باری سنبھالا تھا اور جو بیٹی قریب میں رہتی تھی وہ دن رات ہسپتال میں والدہ کی خدمت کے لئے حاضر رہتی تھی، سب سے زیادہ خدمت کی، صبح جاتی رات کو آتی تھی، آپ مہربانی کر کے قرآن و سنت کی روشنی میں ہماری رہنمائی فرمائیں کہ ہم بیٹیوں نے باپ کو سنبھالنا تھا یا بیٹیوں کا کتنا حق ہوتا ہے؟ اگر حق تھا تو ہم جاتے تھے تو یہ لڑتا تھا، کیسے کرتے سب ہمیں بتائیں، کیا بیٹیوں کی ذمہ داری بنتی ہے؟ بیٹیاں تو اپنے شوہر کی ما تحت ہوتی ہیں ، کیا بیٹوں کے ہوتے ہوئے بیٹیوں کا حق بنتا ہے ماں باپ کو سنبھالنے کا؟

الجوابُ حامِدا ًو مُصلیِّا ً

واضح ہو کہ والدین اگر بیمار اور خدمت کے محتاج ہوں تو اولاد پر ان کی خدمت کرنا شرعاً لازم ہے، چنانچہ سوال میں ذکر کردہ وضاحت کے مطابق اگر سائلہ کی شادی شدہ بہنیں اپنے شوہر کی اجازت سے بیمار والدین کی حتی الوسع خدمت کرتی رہیں تو یہ بڑی سعادت اور خوش نصیبی کی بات ہے، لہٰذا سائلہ کے بھائی کا والدین کی خدمت کر کے احسان جتلانا اور اپنی بہنوں کو موقع بموقع طعنے دینا شرعاً جائز نہیں، جس سے احتراز لازم ہے۔

مأخَذُ الفَتوی

قال اللہ تعالیٰ: وَقَضَى رَبُّكَ أَلَّا تَعْبُدُوا إِلَّا إِيَّاهُ وَبِالْوَالِدَيْنِ إِحْسَانًا إِمَّا يَبْلُغَنَّ عِنْدَكَ الْكِبَرَ أَحَدُهُمَا أَوْ كِلَاهُمَا فَلَا تَقُلْ لَهُمَا أُفٍّ وَلَا تَنْهَرْهُمَا وَقُلْ لَهُمَا قَوْلًا كَرِيمًا اھ ( سورۃ بنی اسرائیل: 23)۔
وفی سنن النسائی: عن عبد الله بن عمرو، عن النبي صلى الله عليه وسلم قال: «لا يدخل الجنة منان، ولا عاق، ولا مدمن خمر» اھ ( رقم الحدیث: 5672 ص 318 )۔
وفی الھندیۃ: قال: ويجبر الولد الموسر على نفقة الأبوين المعسرين مسلمين كانا، أو ذميين قدرا على الكسب، أو لم يقدرا بخلاف الحربيين المستأمنين، ولا يشارك الولد الموسر أحدا في نفقة أبويه المعسرين كذا في العتابية. اليسار مقدر بالنصاب فيما روي عن أبي يوسف - رحمه الله تعالى -، وعليه الفتوى والنصاب نصاب حرمان الصدقة هكذا في الهداية. وإذا اختلطت الذكور والإناث فنفقة الأبوين عليهما على السوية في ظاهر الرواية، وبه أخذ الفقيه أبو الليث، وبه يفتى كذا في الوجيز للكردري الخ ( الفصل الخامس ج 1 ص 564 ط: ماجدیہ )۔

واللہ تعالی اعلم بالصواب
محمد مبارز الیاس عُفی عنه
دار الافتاء جامعه بنوریه عالمیه
فتوی نمبر 72773کی تصدیق کریں
0     1989
Related Fatawa متعلقه فتاوی
  • والدین کا ذاتی رنجش کی وجہ سے اولاد کو رشتہ داروں سے قطع تعلق کرنے کا حکم

    یونیکوڈ   اسکین   انگلش   والدین کے حقوق 0
  • والدین کا اولاد کے حق میں بددعاکرنا

    یونیکوڈ   اسکین   انگلش   والدین کے حقوق 0
  • والدین کی خدمت کس کی ذمے داری ہے ؟

    یونیکوڈ   اسکین   والدین کے حقوق 0
  • والدہ کو" حجِ کعبہ "کہنے کا حکم

    یونیکوڈ   اسکین   انگلش   والدین کے حقوق 0
  • داڑھی رکھنے پر والدہ کی نافرمانی ہوتی ہے

    یونیکوڈ   اسکین   والدین کے حقوق 0
  • بیٹے کے نافرمانی کی وجہ سے سسر بہو سے زیورات واپس لے سکتاہے؟

    یونیکوڈ   اسکین   والدین کے حقوق 0
  • نافرمان بیوی اور اولاد کا حکم

    یونیکوڈ   والدین کے حقوق 0
  • تبلیغی جماعت میں جانے کیلئے ملازمت سے استعفیٰ دینا

    یونیکوڈ   والدین کے حقوق 0
  • نافرمان اولاد کو عاق کرنے کا حکم

    یونیکوڈ   والدین کے حقوق 0
  • معمر والد کی دوسری شادی اور نان و نفقہ سے متعلق

    یونیکوڈ   والدین کے حقوق 0
  • والدین کے ساتھ سخت رویہ رکھنا

    یونیکوڈ   والدین کے حقوق 0
  • اسلام میں خدمتِ والدین کا مقام

    یونیکوڈ   والدین کے حقوق 0
  • بیٹوں کی موجودگی میں شادی شدہ بیٹی پر والدین کی خدمت کا حکم

    یونیکوڈ   والدین کے حقوق 0
  • کیا بچوں کی شادی میں دادا دادی کی مرضی کا خیال رکھنا لازم ہے؟

    یونیکوڈ   والدین کے حقوق 0
  • والدہ کی وفات کے بعد ان کی مرضی کے خلاف پسند کی شادی کرنے کا حکم

    یونیکوڈ   والدین کے حقوق 0
  • والدہ کی خدمت بیٹوں اور بیٹیوں میں سے کس کے ذمہ ہے؟

    یونیکوڈ   والدین کے حقوق 0
  • کاروبار اور حصولِ تعلیم کے لیے والدین سے الگ ہونا

    یونیکوڈ   والدین کے حقوق 0
  • کیا والد اپنی بالغ اولاد کو کسی سے تحفہ وغیرہ لینےسے منع کرسکتا ہے ؟

    یونیکوڈ   والدین کے حقوق 1
  • بیٹے کا والد سے جدا ہونا

    یونیکوڈ   والدین کے حقوق 0
  • بیٹے کا والدہ کو باہر ملک اپنے ساتھ نہ رکھنے کا حکم

    یونیکوڈ   والدین کے حقوق 0
  • والد کے گناہوں کی وجہ سے ان سے بات نہ کرنا

    یونیکوڈ   والدین کے حقوق 0
  • Ruling of behavior with fathers wife after father is passed away

    یونیکوڈ   انگلش   والدین کے حقوق 0
  • گھریلو جھگڑوں کی وجہ سے بیٹےکے لئے ماں سے الگ ہونے کا حکم

    یونیکوڈ   والدین کے حقوق 0
  • والدین کے برا بھلا کہنے پر بیوی کا الگ گھر کا مطالبہ کرنا

    یونیکوڈ   والدین کے حقوق 0
  • دین کی خدمت کی خاطر جاب چھوڑنا،جبکہ والدین جاب چھوڑنے سے منع کر رہے ہوں

    یونیکوڈ   والدین کے حقوق 0
Related Topics متعلقه موضوعات