کیا فرماتے ہین علماء کرام ومفتیان عظام اس مسئلہ کے بارے میں کہ:
میرے والد نے میری والدہ کی وفات کے بعد اگست ۲۰۲۳ء میں ایک خاتون سے نکاح کیا، نکاح کے وقت ہمیں خاتون سے متعلق کچھ بھی معلوم نہ تھا، جبکہ بعد میں معلوم ہوا کہ وہ خاتون ذکری فرقہ سے تعلق رکھتی ہے، لہذا اب سوال یہ ہے کہ میرے والد کا یہ نکاح شرعا درست ہے؟ اور اب اسکو کیا کرنا چاہیئے ؟جو بھی حکم شرعی ہو بتاکر ممنون ہو ۔
صورت مسئولہ میں مذکور خاتون (سائلہ کے والد کی منکوحہ)اگر واقعۃ ذکری فرقہ سے تعلق رکھتی ہو اور نکاح سے قبل وہ اپنے ان کفریہ عقائد سے توبہ تائب بھی نہ ہوئی ہو ،بلکہ حسب سابق اپنے کفریہ عقائد پر قائم ہو تو چونکہ ذکری فرقہ اپنے کفریہ عقائد کی وجہ سے دائرہ اسلام سے خارج ہے، اس لیے سائلہ کے والد کا نکاح مذکور عورت سے منعقد نہیں ہوا ، بلکہ اتنے عرصہ سے وہ حرام زندگی بسر کررہے ہیں ، اس لیے سائلہ کے والد پر لازم ہے کہ مذکور خاتون کو فورا اپنے سے الگ کرکے اپنے گزشتہ عمل پر توبہ و استغفار اور آئندہ کے لئے اس طرح کے غیر شرعی اقدام سے مکمل اجتناب کرے ۔