نکاح

اولیاء کی اجازت کے بغیر کئے ہوئے نکاح کا حکم

فتوی نمبر :
72677
| تاریخ :
2024-04-23
معاملات / احکام نکاح / نکاح

اولیاء کی اجازت کے بغیر کئے ہوئے نکاح کا حکم

السلام و علیکم ! میں ایک جگہ آفس میں جاب کرتی تھی، میرے باس نے مجھے نکاح کا پیغام بھیجا، وہ کینیڈا میں رہتے ہیں اور پہلے سے شادی شدہ ہیں، اور ان کے 2 بچے ہیں لیکن ہم میں بہت اچھی انڈر اسٹیڈنگ تھی تو مجھے نکاح کے لیے بہت اچھے لگے اور دین کی بھی بہت معلومات تھی ان کو ،اور میری اماں نے بھی انسے ہی میرے لیے رشتہ ڈھونڈنے کا کہا تھا ، اور انہوں نے ان کو میری سیلری بڑھانے کا کہا ،تو وہ بھی انہوں نے بڑھا دی ، دوسری شادی کی وجہ سے گھر والے خاصے ناراض تھے ، میرے باس کینیڈا سے آئے میرے ماں باپ کو باہر كھانے پہ لے کے گئے اور میرا ہاتھ مانگا،اور میرے والدین کو منایا ، میرے اماں اور بابا مان گئے تھے اور بابا نے ان کو زُبان بھی دیدی تھی ، میرا بھائی اِس رشتے کے سخت خلاف تھا، دوسری شادی کی وجہ سے وہ مجھے کینیڈا بیوی کے طور پر نہیں بلا سکتے تھے، تو باس چاہیتے تھے کہ وہ مجھے ماسٹرز کے لیے بلائیں اسٹوڈنٹ ویزا پہ جس میں ایک اچھی خاصی دولت لگتی ہے ، میں نہیں چاہتی تھی ہم کسی حرام رشتے میں رہیں اور وہ بھی ،اور پیسہ جو خرچ ہواتھا، وہ ایک نا محرم پہ خرچ ہوا تھا، اسلیے ہم نے نکاح کر لیا، اب نکاح ایجاب و قبول تھا انکا ایک کزن اور دوست کے سامنے ایک مقررہ مہر کی رقم رکھ کے ہم نے نکاح کر لیا، اور انہوں نے فورا ہی مہر ادا بھی کردیا، ایک ہفتے بعد چاہا کے ماں باپ کو بتادیں اور سہی سے مسجد میں نکاح کرلیں لیکن سوسائٹی کے پریشر کی وجہ سے والدین نے صاف انکار کردیا ، اس کے بعد باس کینیڈا چلے گئے، پھر ہم اپنا کینیڈا کا کام جاری رکھا ، میرا بھائی میری جاسوسی میں تھا اسنے دھوکے سے ناٹک کر کے میرے لیپ ٹاپ سے ہماری ساری آپسی گفتگو پڑھ لی، حالنکہ وہ دوسری شادی کرینگے، یہ اپنی پہلی بِیوِی کو بتا چکے تھے، میرے بھائی نے انکی بیوی کا نمبر لیا اور بہت مرچ مصالحہ لگا کے سب باتیں بتائں کے میری بہن کے لیے بہت کچھ دلایا ہے تمہارے شوہر نے ، وہ انکا پھلا گھر برباد کرنا چاہتا تھا، اور مجھ سے بھی رشتہ ختم کروانا چاہتا تھا کیوں کہ اسکو کہیں شامل نہیں کیا تھا، اور اُسے میرے باس سے نفرت تھی ، پھر میرے شوہر نے مجھے کال کی اور بولا تمہارے بھائی نے یہ کیا کیا ہے، انکی بیوی بہت منہ چلارہی تھی پیچھےکال پر، میں نے جب پوچھا آپنے بھائی سے بات کی ہے؟ تو اسنے صاف انکار کردیا کے اسنے کچھ نہیں کیا ہے، وہ جھوٹ بولنے کا عادی ہے اسنے اپنی پڑھائی پہ بھی جھوٹ بولا ہے اور ڈرامہ کیا ہے کے اُس پے جن ہے، میرے سارے گھر والے مانتی ہیں کے اُس پے واقعی جن ہے پر میں نہیں مانتی ، خیر میرے شوہر نے مجھے ثبوت دیا جو کہ ایک سکرین شوٹ تھا جس پے میرے بھائی کے میسج تھے جو اسنے میرے شوہر کی بیوی کو کیے تھے ،میں نے اپنے شوہر سے کہا آپ خود بات کرلیں اور وہ اس وقت بہت غصے میں تھے ،ان کے گھر میں ایک ہنگامہ ہوا تھا، انکی بیوی طلاق مانگ رہی تھی اور ان کے بچے زار و قطار رو رہےتھے،جب انہوں نے میرے بھائی کو کال کی تو وہ بات کرنے لگے اس پے وہ ہنسنے لگا انکی بےبسی پہ اور بہت بڑی طرح سے انکا مذاق اوڑھانے لگا جس پے انکا غصہ بہت تیز ہوا اور انہوں نے گالیاں دینا شروع کردی اور وہ میرے بھائی نے لاؤڈ اِسْپِیکَر پہ سب کو سنادیں ،میں نے پھر اپنے بھائی کو بتادیا تم نے جو تماشہ کیا ہے اس انسان سے میں نکاح کرچکی ہوں ،ان سب کے بعد میرے گھر والوں نے مجھے اپنے شوہر سے بات کرنے سے روک دیا مجھے چماٹ بھی لگایا اور اموشنل بلیک میل بھی کیا ، وہ اِس نکاح کو بھی نہیں مانتے میرے گھر والے،میرے شوہر الگ غصے میں ہیں اور گھر والے بھی،میں اپنے شوہر کو چھوڑنا نہیں چاہتی،مجھے اک فتویٰ چائیے کے میرا نکاح قابل قبول ہیں یا نہیں؟
اور دوسرا یہ کے میرے شوہر چاہتیے ہیں کے میں انسے ملوں اکیلے میں کیوں کے وہ مجھ پے بھی بھروسہ نہیں کر پارہے ہیں، اِس واقعے سے پہلے وہ مجھ پے اور میرے گھر والوں پہ اندھا بھروسہ کرتے تھے اور میں نہیں مل پارہی گھر کے پریشر میں تو وہ کہتے ہیں میں انکا حق ادا نہیں کر رہی،میں نےانسے مہر کی رقم بھی لے لی ہے اور انہوں نے ہر طرح سے میرا خیال رکھا ہے
میرا سارا خرچہ وہی اٹھاتے تھے، اِس حال میں مجھے کیا کرنا چائیے ہے ؟
رمضان میں افطار کے وقت میرے بھائی نے میرا گریبان اور ہاتھ پکڑ کے مجھے گھر سے باہر کردیا جسکی وجہ بتائی کے میں زُبان درازی کر رہی تھی اور اس کے بعد جب میں نے دروازہ کھٹکھٹایا تو میری اماں نے مجھے اندر کھینچا اور بٹھایا اور مجھے پانی پیلا رہی تھیں میں نے وہ پانی نہیں پیا اور بولا کے اللہ مجھے اِس مشکل سے آزاد کر کے اپنے پاس بلا لے اس پے میری اماں نے مجھے منہ پہ 4 کس کے چماٹ لگائے اور پانی میرے منہ پہ پھینک دیا،اب میرے گھر والوں نے مجھے کوسنے کے علاوہ یہ بھی کہنا شروع کردیا ہے کے ہم تم سے ناراض ہیں تمھاری کوئی عبادت قبول نہیں ہوگی،اور میرے حجاب کرنے پہ بھی میری اماں نے مجھے تانے مارے،اور کہنے لگیں کے تم طلاق لے لو میں نے کچھ نہیں جواب دیا تو کہتی ہیں میں اب تمہارے لیے 1 ہی بد دعا کروں گی کے تمہیں وہاں سے کوئی ایسی چوٹ پہنچے کے تمھارا دل ہل جائے،جو میرے ہسبنڈ ہیں وہ غصہ ہوتے ہیں میں انکی بھی خاموشی سے سنتی ہوں کیوں کے انکی زندگی میرے ہی گھر والوں نے عذاب میں ڈالی ہے لیکن ان کو احساس بھی ہے وہ مجھے یہاں سے نکلنا بھی چاہتیے ہیں،اس پے مجھے کیا عمل کرنا چائیے ؟ رہنمی فرمائیں کیسے سب کے حق ادا کروں؟ ماں باپ بھی بہت بری طرح سے ٹارچر کرسکتے ہیں میں نے کبھی نہیں سوچا تھا،جب یہ سب ہونے لگے تو کیا حکم ہے ؟ میرے شوہر ہر مہینے مجھے خرچہ بہجتے ہیں جو کے میری سیلری کے برابر کی رقم ہے اچھی خاصی،کیا میرا وہ لینا جائز ہے ؟ پلیز مجھے جلدی جواب دے دیں اور پوائنٹ وائس جواب دیں تحریریں طور پر چاہیے ۔

الجوابُ حامِدا ًو مُصلیِّا ً

سائلہ نے اپنا اور شوہر کا خاندانی پس منظر بیان نہیں کیا کہ یہ دونوں ایک دوسرے کے لیے کفؤ (برابری کے) ہیں یا نہیں تاکہ اسی کے مطابق جواب دیا جاتا، تاہم اگر سائلہ کا شوہر خاندانی پس منظر اور مالی امتیاز کےاعتبار سے سائلہکے برابر اس سے زیادہ مستحکم ہو اور یہ نکاح باقاعدہ دو عاقل بالغ مردوں کی موجودگی میں باضابطہ ایجاب و قبول کر کے ہوا ہو، تو اگرچہ اس طرح نکاح کرنا انتہائی معیوب اور نامناسب طرز عمل ہے جس کے نتائج سائلہ کے سامنے ہیں، تاہم ان دونوں کا باہم کفؤ ہونے کی وجہ سے یہ نکاح شرعا درست منعقد ہو چکا ہے اور میاں بیوی دونوں پر ایک دوسرے کے حقوق کی ادائیگی بھی لازم ہے ،اس لیے سائلہ کے والدین کا اپنی بیٹی کو ٹارچر کرنے کا بجائے اس کے گھر بسانے کی فکر کرنے کی ضرورت ہے اور سائلہ کو بھی چاہیے کہ اپنے شوہر کا اعتماد بحال کرنے کے ساتھ والدین کی رضامندی حاصل کرنے کی بھی کوشش کرتی رہا کرے تاکہ یہ رشتہ خوش اسلوبی کے ساتھ نبھانا آسان ہو سکے ،اور بیوی ہونے کی حیثیت سے سائلہ کا شوہر اسے جو رقم ارسال کرتا ہے وہ بلا شبہ استعمال کر سکتی ہے، شرعا اس میں کوئی قباحت نہیں، لیکن شوہر کو بھی چاہیے کہ اس رشتہ کو یوں لٹکانے کے بجائے رخصتی کر کے باقاعدہ گھر والوں کے سامنے سائلہ کو قانونی اور معاشرتی حقوق دے تاکہ بیوی ہونے کی حیثیت سے ان کی حق تلفی نہ ہو۔

مأخَذُ الفَتوی

کما قال اللہ تعلی: «فانكحوا ما طاب لكم من النساء مثنی»۔ (النساء: 3)۔
و قال اللہ تعلی: «وعاشروهنّ بالمعروف»۔ (النساء: 19)۔
وفی مسند أحمد: «لا طاعة لمخلوقٍ في معصية الخالق»۔ (1098)۔
وفی صحیح مسلم: «اتّقوا الظّلم فإنّ الظّلم ظلماتٌ يوم القيامة»۔ (2578)۔
وفی سنن ابن ماجہ: «للمرأة على زوجها نفقةٌ وكسوةٌ بالمعروف»۔ (1850)۔
و فی سنن أبي داود: (عن أبى هريرة عن النبى صلى الله عليه وسلم قال: من كانت له امرأتان فمال إلى إحداهما جاء يوم القيامة وشقه مائل)۔ (كتاب النكاح، باب فى القسم بين النساء، ج:2، ص:297، ط:حقانية)۔

واللہ تعالی اعلم بالصواب
عبدالھادی شعیب عُفی عنه
دار الافتاء جامعه بنوریه عالمیه
فتوی نمبر 72677کی تصدیق کریں
0     100
Related Fatawa متعلقه فتاوی
Related Topics متعلقه موضوعات