کیا فرماتے ہیں علماءِدین اس مسئلہ کے بارے میں کہ میاں بیوی میں طلاق کے وقت بیوی دوبیٹوں کو خاوند کے گھر پھینک گئی کہ انہیں تم ہی پالو،اور اپنے میکے چلی گئی،کچھ عرصہ بعد عورت کے ہاں بیٹی کی پیدائش ہوئی جو کہ آخر تک اپنی ماں کے ساتھ رہی اور ماں نے اس بیٹی کی شادی اپنے بھتیجے سے کردی،اس شادی میں باپ کو شامل نہ کیا گیا،بیٹے دونوں اپنے باپ کے ساتھ رہے،بیٹے بھی جوانی کی عمر کو پہنچ گئے،اور محنت مزدوری کرکے اپنے باپ کا ہاتھ بٹانے لگے،سوال یہ ہے کہ جو عورت اپنے چھوٹے بچوں کو دودھ پینے کی عمر میں چھوڑگئی ہو،اور بعد میں کبھی اپنے خاوند سے بچوں کا مطالبہ نہ کیا ہو،کیا بچوں کے جوان ہونے پر ان سے نان نفقہ کا مطالبہ کرسکتی ہے؟اور کیا اس کے وہ بیٹے اپنی اس ماں کے ذمہ دار ہیں؟مہربانی فرماکر قرآن وسنت کی روشنی میں رہنمائی فرمادیں؟
واضح ہو کہ مطلقہ عورت کا عدت کے بعد اپنے بچوں کو بالکلیہ نظر انداز کردینا اور ان سے ملاقات وغیرہ بالکل بھی نہ کرنا بڑی بےمروتی اور لاپرواہی والا عمل ہے،جس سے اجتناب لازم ہے۔
تاہم اگر مطلقہ عورت ضرورتمند ہواور اس کے جوان بیٹے موجود ہوں،تو ان بیٹوں کو اپنی ماں کی ضروریات کا پورا خیال رکھنا اور اس کے حقوق ادا کرنا لازم ہے،چنانچہ اگر ماں ضرورتمند ہو تو وہ اپنے جوان بیٹوں سے نان نفقہ کا مطالبہ کرسکتی ہے۔
کما فی بدائع الصنائع في ترتيب الشرائع: فالأصل أنه متى اجتمع الأقرب والأبعد؛ فالنفقة على الأقرب في قرابة الولادة وغيرها من الرحم المحرم فإن استويا في القرب ففي قرابة الولادة يطلب الترجيح من وجه آخر وتكون النفقة على من وجد في حقه نوع رجحان فلا تنقسم النفقة عليهما على قدر الميراث وإن كان كل واحد منهما وارثا، وإن لم يوجد الترجيح فالنفقة عليهما على قدر ميراثهما. (الی قولہ) وبيان هذا الأصل إذا كان له ابن وابن ابن فالنفقة على الابن؛ لأنه أقرب، ولو كان الابن معسرا وابن الابن موسرا فالنفقة على الابن أيضا إذا لم يكن زمنا؛الخ (ج4 ص32 کتاب النفقۃ،فصل فی سبب وجوب ھذہ النفقۃ ط: سعید)۔
وفی الفتاوى الهندية : قال: ويجبر الولد الموسر على نفقة الأبوين المعسرين مسلمين كانا، أو ذميين قدرا على الكسب،(الی قولہ)وإذا اختلطت الذكور والإناث فنفقة الأبوين عليهما على السوية في ظاهر الرواية، وبه أخذ الفقيه أبو الليث، وبه يفتى كذا في الوجيز للكردري الخ (ج1 ص564 کتاب الطلاق،الباب السابع عشر،الفصل الخامس فی نفقۃ ذوی الارحام ط: ماجدیۃ)۔
وفیھاأیضاً: والأم إذا كانت فقيرة فإنه يلزم الابن نفقتها، وإن كان معسرا، أو هي غير زمنة، وإذا كان الابن يقدر على نفقة أحد أبويه، ولا يقدر عليهما جميعا فالأم أحق الخ (ج1 ص565 کتاب الطلاق،الباب السابع عشر،الفصل الخامس ط: ماجدیۃ۔