کزن لڑکی نے تنگ آکر عدالت سے خلع لے لی ہے، جبکہ لڑکا دستخط کرنے سے انکاری ہے اور متعدد کورٹ نوٹس کے باوجود غیر حاضر رہا، جس کے بعد عدالت نے خلع دے دی، لڑکی کی طرف سے لڑکے کو خلع پر دستخط کرنے کے لئے دو سال تک انتظار بھی کیا، اب لڑکی کے بہن بھائی اسکی شادی کروانا چاہتے ہیں، لڑکی کے ماں باپ دنیا سے رخصت ہوچکے ہیں، اس کا حل بتائیں۔ جزاک اللہ
واضح ہو کہ خلع بھی دیگر عقودِ مالیہ کی طرح ایک عقد ہے، جس کے لئے میاں بیوی کی باہمی رضا مندی اور باقاعدہ ایجاب و قبول شرط ہے، عدالتی خلع میں یہ شرط عموماً مفقود ہوتی ہے، لہٰذا صورتِ مسئولہ میں اگر شوہر یا اس کے وکیل نے عدالت میں حاضر ہو کر خلع کے پیپرز پر دستخط نہ کیے ہوں تو اس یکطرفہ عدالتی خلع سے ان کا نکاح ختم نہیں ہوا، بلکہ بدستور برقرار ہے، اور اس عدالتی خلع کی ڈگری کو بنیاد بنا کر لڑکی کا دوسری جگہ نکاح کرانا بھی شرعاً درست نہیں ، تاہم اگر باوجود کوشش کے اس رشتہ کو برقرار رکھنے کی کوئی صورت ممکن نہ ہو تو لڑکی کچھ مال ( حق مہر وغیرہ ) کے عوض شوہر سے طلاق یا خلع حاصل کرسکتی ہے، لیکن شوہر اگر اس کے لئے بھی تیار نہ ہو اور نہ گھر بسا کر بیوی کا نان نفقہ اور دیگر حقوق ادا کرتا ہو اور نہ ہی طلاق دیتا ہو تو ایسی صورت میں اس کا شوہر حکماً متعنت شمار ہوگا، لہٰذا ایسی مجبوری میں لڑکی کو , نان نفقہ نہ دینے اور حقوق کی ادائیگی نہ کرنے کی بنیاد پر بذریعۂ قضاءِ قاضی فسخِ نکاح کا حق حاصل ہوگا۔
جس کا طریقہ یہ ہے کہ لڑکی اپنا مقدمہ مسلمان حاکم ( جج ) کے سامنے پیش کرے اور جس کے سامنے یہ مقدمہ پیش ہو ، وہ معاملہ کی شرعی شہادت وغیرہ کے ذریعہ پوری تحقیق کرے اور اگر عورت کا دعوٰی صحیح ثابت ہوجائے تو اس کے خاوند سے کہا جاوے کہ اپنا گھر بسا کر بیوی کے حقوق ادا کرو یا طلاق دو، ورنہ ہم تفریق کردیں گے، اس کے باوجود اگر وہ ظالم کسی صورت پر عمل کرنے کو تیار نہ ہو تو بغیر کسی انتظار و مہلت کے قاضی اس کا قائم مقام بن کر اس کی بیوی پر طلاق واقع کردے، چنانچہ ایسا کرنے سے اس عورت پر ایک طلاقِ بائن واقع ہوجائے گی، جبکہ عورت ایامِ عدت گزارنے کے بعد دوسری جگہ نکاح کرنے میں آزاد ہوگی۔
کما فی احکام القرآن للجصاص: قال أصحابنا إنهما لا يجوز خلعهما إلا برضى الزوجين فقال أصحابنا ليس للحكمين أن يفرقا إلا برضى الزوجين لأن الحاكم لا يملك ذلك فكيف يملكه الحكمان وإنما الحكمان وكيلان لهما أحدهما وكيل المرأة والآخر وكيل الزوج في الخلع ( الی قولہ ) وکیف يجوز للحكمين أن يخلعا بغير رضاه ويخرجا المال عن ملكها الخ ( ج 3 ص 153 )۔
وفی الحیلۃ الناجزۃ: وأما المتعنت الممتنع عن الإنفاق ففي مجموع الأمير مانصه:إن منعها نفقة الحال فلها نفقة القيام فإن لم يثبت عسره أنفق أو طلق وإلا طلق عليه.قال محشيه قوله:وإلا طلق أي طلق عليه الحاكم من غير تلوم إلي أن قال:وإن تطوع بالنفقة قريب أوأجنبي فقال ابن القاسم لها أن تفارق لأن الفراق قد وجب لها.وقال ابن عبدالرحمن لا مقال لها لأن سبب الفراق هو عدم النفقة قد انتهي وهو الذي تقضيه المدونة كما قال ابن المناصف۔الخ ( ص 73)۔