السلام علیکم ورحمتہ اللہ وبرکاتہ ! امید ہے مزاج بخیر ہونگے ، عرض ہے کہ میرا نیشنل بینک میں سیونگ اکاؤنٹ ہے جس کے ذریعے میں تنخواہ وصول کرتا ہوں لیکن کچھ وجو ہات کی بنا پر تنخواہ کے پیسے کچھ عرصہ تک اکاؤنٹ میں پڑے رہے جس پر منافع آ یا ہےاور اب یہ اضافی پیسے واپس بھی نہیں ہو سکتے، لہذا گزارش ہے کہ کیااب یہ پیسے میں استعمال کر سکتا ہو یا نہیں؟ اگر نہیں تو اسے خرچ کرنے کی دوسری جائز صورت کیا ہوسکتی ہے؟ برائے مہربانی رہنمائی فرمائیں، امید ہے آپ رہنمائی فر مائیں گے ۔شکریہ!
صورت مسئولہ میں اگر ادارے کی طرف سے سیونگ اکاؤنٹ کھولنے کی لازمی شرط اور پابندی نہ ہو تو سائل کو اولاً اپنے سیونگ اکاؤنٹ کو کرنٹ اکاؤنٹ میں تبدیل کروانا چاہیئے اور اگر ایسا کرنا ممکن نہ ہو تو ایسی صورت میں سیونگ اکاؤنٹ میں رقم باقی رکھنا درست نہ ہو گا بلکہ فی الفور کسی غیر سودی اکاؤنٹ میں منتقل کرانا یا کیش کرنا لازم ہوگا ، البتہ اب تک جو رقم وصول کر لی ہو اسے اپنے ذاتی استعمال میں لانے کے بجائے کسی مستحق زکوٰۃ شخص کو ثواب کی نیت کئے بغیر صدقہ کردیں تا کہ مؤاخذہ اخروی سے بچا جا سکے۔
کما فی الصحیح المسلم:عن جابر رضیاللہ عنہ قال لعن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اٰکل الربا وموکلہ وکاتبہ وشاھدیہ وقال ھم سوءالحدیث (ج 2 ص27 ط:قدیمی)۔
وفی معارف السنن: قال شیخنا ویستفاد من کتب فقھائنا "کالھدایۃ"وغیرھا أن من ملک بملک خبیث ولم یمکنہ الردالی المالک فسبیلہ التصدق علی الفقراءالخ(ابواب الطھارۃ ج1 ص34 ط سعید)۔
سونا قرض دے کر بعد میں کچھ کی ادائیگی کے لئے سونے اور بقیہ کی ادائیگی کے لئے نقد رقم کی شرط لگانا
یونیکوڈ سود 1