کیا فرماتے ہیں مفتیان کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ میں نے نکاح کے لائق ایک لڑکا دیکھ رکھاتھا ، لیکن حال ہی میں پتہ چلا کہ انکا تعلق حیدرآباد کے مہدوی فرقہ سے ہے، تو کیا ان کے ساتھ نکاح جائز ہے؟ جزاک اللہ
واضح ہوکہ مہدویہ فرقہ جو سید محمد جونپوری کی طرف منسوب ہے، ایک گمراہ فرقہ ہے،اور انکی کفریہ عقائد کی بنا پر علماء اسلام نے ان کو گمراہ اور زندیق قرار دیا ہے، لہذا مذکور لڑکا اگر واقعۃ ًمہدوی فرقے سے تعلق رکھتا ہو اور وہ ان کے کفریہ عقائد پر بھی قائم ہو، تو اسکے ساتھ کسی مسلمان لڑکی کا نکاح کرنا بوجہ اس کے کفر کے شرعاً جائز نہ ہوگا، البتہ مذکور لڑکا اگر اپنے کفریہ عقائد سے توبہ و تائب ہوکر باقاعدہ اسلام قبول کرے، اور تمام کفریہ عقائد سے اعلانیہ طور پر بالکلیہ براءت کا اظہار بھی کرے، تو ایسی صورت میں اس کے ساتھ مسلمان لڑکی کا نکاح کرنا شرعاً درست ہوگا۔(فتاوی رحیمیہ، ج7،ص 40-42، ط: رحمانیہ/ کفایۃ المفتی، ج1،ص329،دار الاشاعت)۔
کما فی بدائع الصنائع: ولا یجوز للمسلم نکاح المجوسیۃ لان المجوس لیسوا من اھل الکتاب الخ (کتاب النکاح، ج2،ص271)۔
کما فی الدر المختار: لأن الكفار أصناف خمسة: من ينكر الصانع كالدهرية، ومن ينكر الوحدانية كالثنوية، ومن يقر بهما لكن ينكر بعثة الرسل كالفلاسفة، ومن ينكر الكل كالوثنية، ومن يقر بالكل لكن ينكر عموم رسالة المصطفى صلى الله عليه وسلم كالعيسوية، فيكتفي في الأولين بقول لا إله إلا الله، وفي الثالث بقول محمد رسول الله، وفي الرابع بأحدهما، وفي الخامس بهما مع التبري عن كل دين يخالف دين الإسلام الخ (ج4،ص227، سعید)۔
وفی رد المحتار: تحت (قوله وفي الخامس بهما مع التبري إلخ) ذكر ابن الهمام في المسايرة، أن اشتراط التبري لإجراء أحكام الإسلام عليه لا لثبوت الإيمان فيما بينه وبين الله تعالى، فإنه لو اعتقد عموم الرسالة وتشهد فقط كان مؤمنا عند الله تعالى. اهـ. ثم إن الذي في البدائع: لو أتى بالشهادتين لا يحكم بإسلامه حتى يتبرأ عن الدين الذي هو عليه. وزاد في المحيط: لا يكون مسلما حتى يتبرأ من دينه مع ذلك ويقر أنه دخل في الإسلام لأنه يحتمل أنه تبرأ من اليهودية ودخل في النصرانية، فإذا قال مع ذلك ودخلت في الإسلام يزول هذا الاحتمال (الی قولہ) ثم اعلم أنه يؤخذ من مسألة العيسوي أن من كان كفره بإنكار أمر ضروري كحرمة الخمر مثلا أنه لا بد من تبرئه مما كان يعتقده الخ (ج4،ص228، سعید)۔