نکاح

عقدِ نکاح میں ایجاب و قبول بجائے تین بار دہرانے کے ایک بار کہلوانا

فتوی نمبر :
72219
| تاریخ :
2024-03-30
معاملات / احکام نکاح / نکاح

عقدِ نکاح میں ایجاب و قبول بجائے تین بار دہرانے کے ایک بار کہلوانا

،السلام علیکم مفتی صاحب!
میرے بیٹے کا 27/ جنوری/2024 کو نکاح ہوا، جو مولوی صاحب آئے تھے، انہوں نے صرف ایک دفعہ "قبول ہے" بلوایا تھا، لڑکی باہر کی تھی، وہ وہاں جاکر بول رہی ہے کہ میرے ماں باپ نے زبردستی نکاح کروایا ہے، اس کی مرضی نہیں تھی، تو کیا یہ نکاح ہوا ہے یا نہیں؟ اور حق مہر دینا ہوگا یا نہیں؟ کیوں کہ کوئی رخصتی نہیں ہوئی کسی بھی طرح کی۔ مہربانی فرما کر ہماری رہنمائی کریں۔ شکریہ
مزید وضاحت! نکاح باقاعدہ گواہوں کی موجودگی میں ایجاب و قبول کے ساتھ لڑکی اور اس کے اولیاء کی رضامندی سے ہوا تھا اور لڑکی از خود ایجاب و قبول کے وقت موجود تھی، اب لڑکی اس رشتہ کو برقرار رکھنے پر رضامند نہیں ہے اور شوہر سے علیحدگی کا مطالبہ کررہی ہے۔

الجوابُ حامِدا ًو مُصلیِّا ً

سوال میں درج کردہ تفصیل کے مطابق جب سائل کے بیٹے اور مذکور لڑکی کا نکاح باقاعدہ گواہوں کی موجودگی میں باہمی رضا مندی سے ہوا تھا تو شرعاً یہ نکاح درست منعقد ہوچکا ہے، البتہ اگر نکاح کے بعد اب تک دونوں میاں بیوی کے درمیان ایسی تنہائی میں ملاقات کا موقع میسر نہ آیا ہو، جس میں ہمبستری کرنے میں کوئی رکاوٹ نہ ہو، اور اس سے قبل سائل کا بیٹا اپنی بیوی کو طلاق دیدے تو ایسی صورت میں سائل کے بیٹے کے ذمہ طے شدہ حق مہر کا آدھا اپنی بیوی کو دینا لازم اور ضروری ہوگا، البتہ اگر طلاق دینے سے قبل سائل کا بیٹا اپنی بیوی سے حق مہر معاف کرائے یا حق مہر کے بدلے اُسے خلع دے تو ایسی صورت میں سائل کے بیٹے کے ذمہ حق مہر کی ادائیگی لازم نہ ہوگی۔

مأخَذُ الفَتوی

کما فی الھندیۃ:وأما ركنه فالإيجاب والقبول كذا في الكافي والإيجاب ما يتلفظ به أولا من أي جانب كان والقبول جوابه هكذا في العناية الخ (ج 1 ص 267 ط:دارالفکر )
وفی الهداية:و إن طلقها قبل الدخول بها والخلوة فلها نصف المسمى " لقوله تعالى: {وَإِنْ طَلَّقْتُمُوهُنَّ مِنْ قَبْلِ أَنْ تَمَسُّوهُنَّ} [البقرة: 237] الآية، والأقيسة متعارضة ففيه تفويت الزوج الملك على نفسه باختياره وفيه عود المعقود عليه إليها سالما فكان المرجع فيه النص وشرط أن يكون قبل الخلوة لأنها كالدخول عندنا على ما نبينه إن شاء الله تعالى اھ (1/199)۔

واللہ تعالی اعلم بالصواب
محمد مبارز الیاس عُفی عنه
دار الافتاء جامعه بنوریه عالمیه
فتوی نمبر 72219کی تصدیق کریں
0     1186
Related Fatawa متعلقه فتاوی
Related Topics متعلقه موضوعات