کیا فرماتے ہیں علماءِ کرام ومفتیانِ عظام اس مسئلہ کے بارے میں عثمان کی طرف سے جمیلہ کے لئے نکاح کا رشتہ آیا ،رشتہ آنے کے بعد سے عثمان کی فیملی نے بتایا کہ عثمان کنوارہ ہے شادی شدہ نہیں ہے ،عثمان کی تمام فیملی والوں کو معلوم تھا کہ وہ شادی شدہ ہےاور جان بوجھ کر لڑکی والوں کو اندھیرے میں رکھا ،کسی سے بھی یہ بات ذکر نہیں کی اور کانوں کان خبر تک پہنچنے نہیں دی،دونوں فیملی کی رضامندی سے مؤرخہ 2023/10/20 کو بعوض حقِ مہر دو تولہ سونا دونوں کی شادی ہوگئی شادی میں لڑکی والوں نے تمام جہیز کا سامان دیا ہے ،لیکن موٹر سائیکل جہیز میں نہ دینے کی وجہ سے عثمان والے ناخوش ہیں اور عثمان اداس اداس رہتا ہے ،اور اس کی وجہ سے عثمان کی فیملی والے جمیلہ کو طعنے دینے لگے،اس کے علاوہ جمیلہ کا کہنا ہے عثمان کا کسی دوسری لڑکی سے فون پر رابطہ ہے،میسج اور واٹس ایپ پر بات چیت کرتا ہے ،اسی حالت میں تین ماہ کا عرصہ گذرگیا عثمان کے موبائل میں پاس ورڈ لگا ہوا ہوتا ہے ،ایک دن اچانک فون بیل بجنے لگی اور جمیلہ نے فون ریسیو کیا ،تو سامنے سے کسی لڑکی کا فون تھا،اس نے اپنا نام بتایا اور بولا کہ عثمان اس کا شوہر ہے ،اور ایک بچہ بھی ہے جس کےبعد یہ معاملہ بگڑ گیا ،اور بڑوں نے مل بیٹھ کر آپس میں اس بات کا ذکر کیا، تو عثمان کے فیملی والے اور خود عثمان بھی قرآن اور ممبر اور مسجد کی قسم اٹھانے کے لئے تیار ہوگئے کہ عثمان شادی شدہ نہیں ہے ،یہ صرف لوگ دشمنی کررہے ہیں جس پر بحث مباحثہ ہوگیا بالآخر عثمان کی فیملی نے بولا اگر شادی شدہ ثابت کردیا تو حقِ مہر کے علاوہ شادی کے تمام اخراجات پورےپورے ہم بھر دینگے ،جس کے بعد جمیلہ کی فیملی والے ثبوت تلاش کرنے کے لئے نکلے،اور ادھر اُدھر جانے کا کرایہ اور آنے جانے والوں کے لئے کھانےپینے کے لئے 40000 چالیس ہزار روپے خرچہ کیے ، اور پہلی بیوی کا نکاح نامہ لاکر ان کا جھوٹ ثابت کردیا، علاقہ چیئرمین کے پاس پنچائیت آئی ہے ،جمیلہ کی فیملی کا کہنا ہے عثمان کا آج بھی اس لڑکی سے رابطہ ہے جبکہ عثمان والے کہتے ہیں ان سے کوئی رابطہ نہیں ہے جس کے بعد یوسی چیئرمین نے اس کا نمبر لیکر کسی ادارے سے تحقیقات کروائیں تو پتہ چلا کسی تیسری لڑکی سے رابطہ ہے ،
اب جمیلہ عثمان کی طرف سے طعنے سننے اور قرآن و ممبر پر جھوٹا قسم اٹھانے کی کوشش کرنے اور کسی تیسری لڑکی سے واسطہ رکھنے کی وجہ سے اس کا دل ٹوٹ گیا ہے اب عثمان کے ساتھ مزید زندگی گزارنے پر تیار نہیں ہے،اور حقِ مہر عدت کی خوراکی کے علاوہ تمام شادی کے اخراجات اور ثبوت کی تلاش میں جو چالیس ہزار روپے لگائے ہیں سب کامطالبہ لڑکی والے کررہے ہیں
جناب مفتی صاحب ! قرآن وحدیث کی روشنی میں وضاحت سے بیان فرمائیں کہ لڑکی کو اس کاحقِ مہر عدت کی خوراکی شادی کے اخراجات،ثبوت کی تلاش کا خرچہ دیا جائیگا یا نہیں ؟تفصیل سے بیان فرمائیں آپ کی بڑی مہربانی ہوگی ۔
سوال میں ذکر کردہ تفصیل اگر واقعۃً درست اور مبنی بر حقیقت ہو ،اس میں کسی قسم کی غلط بیانی اور جھوٹ کا سہارا نہ لیا گیا ہو تو لڑکے والوں کو اصل صورتحال کے علم ہونے کے باوجود غلط بیانی اور جھوٹ بول کر لڑکے کو غیر شادی شدہ قرار دینا اور معلوم ہونے پر جھوٹی قسموں کا سہارا لیکر اس بات کو چھپانا اانتہا درجہ غلط اور غیر شرعی طرزِ عمل تھا،جس کی وجہ سے وہ سب گناہ گار ہوئے ہیں،لہذا ان سب پر اپنے اس گناہ پر بصدقِ دل توبہ واستغفار اور آئندہ کے لئے اس قسم کی دھوکہ دہی اور جھوٹ سے اجتناب لازم ہے،تاہم اگر لڑکی کے گھر والے اس غلط بیانی کو درست سمجھ کر لڑکی کو مذکور شخص کے عقد میں دے چکے ہیں،اور نکاح شرعی تقاضوں کے مطابق(باقاعدہ ایجاب وقبول اور دو گواہان کی موجودگی میں)منعقد ہوا ہوتو یہ نکاح درست منعقد ہوچکا ہے،لہذا اگر لڑکا اس رشتہ کو نبھانا چاہتا ہواور اس میں مزید کوئی دینی یا دنیوی خرابی نہ ہو اور دونوں ایک دوسرے کے حقوق ادا کرسکتے ہوں تو دونوں کے اولیاء کو چاہیئے کہ اس رشتہ کو بلاوجہ ختم نہ کریں بلکہ بدستور برقرار رہنے دیں،تاہم اگر پھر بھی دونوں کے درمیان نباہ کی صورت ممکن نہ ہواور معاملہ طلاق تک پہنچ کر دونوں کے درمیان علیحدگی ہوجائے تو اس صورت میں لڑکی اپنے سامانِ جہیز ،والدین اور سسرال والوں کی طرف سے ملکیتاً ملنے والے تحائف اور حقِ مہر کے علاوہ لڑکی والوں کے شادی پر ہونے والے اخراجات اور بعد میں لڑکے کے تحقیق وجستجو میں خرچ ہونے والی چالیس ہزار رقم کا مطالبہ کرنا شرعاً درست نہیں،البتہ اگر لڑکا شادی کے اخراجات میں سے موجود اشیاء خوش دلی اور رضامندی سے واپس دینا چاہے تو دے سکتا ہے،شرعاً اس میں کوئی حرج نہیں۔
کما فی رد المحتار: ثم عرف المهر في العناية بأنه اسم للمال الذي يجب في عقد النكاح على الزوج في مقابلة البضع إما بالتسمية أو بالعقد الخ (ج3 ص100 کتاب النکاح باب المھرط: سعید)۔
وفیہ أیضاً تحت (قوله لا بأخذ مال في المذهب) قال في الفتح: وعن أبي يوسف يجوز التعزير للسلطان بأخذ المال. وعندهما وباقي الأئمة لا يجوز. اهـ. ومثله في المعراج، وظاهره أن ذلك رواية ضعيفة عن أبي يوسف. قال في الشرنبلالية: ولا يفتى بهذا لما فيه من تسليط الظلمة على أخذ مال الناس فيأكلونه اهـ ومثله في شرح الوهبانية عن ابن وهبان (قوله وفيه إلخ) أي في البحر، حيث قال: وأفاد في البزازية أن معنى التعزير بأخذ المال على القول به إمساك شيء من ماله عنه مدة لينزجر ثم يعيده الحاكم إليه، لا أن يأخذه الحاكم لنفسه أو لبيت المال كما يتوهمه الظلمة إذ لا يجوز لأحد من المسلمين أخذ مال أحد بغير سبب شرعي الخ (ج4 ص61 کتاب الحدود،باب التعزیر ط: سعید)۔
وفی بدائع الصنائع في ترتيب الشرائع: وأما شرائط الرجوع بعد ثبوت الحق حتى لا يصح بدون القضاء والرضا لأن الرجوع فسخ العقد بعد تمامه وفسخ العقد بعد تمامه يصح بدون القضاء والرضا كالرد بالعيب في البيع بعد القبض.وأما العوارض المانعة من الرجوع فأنواع منها هلاك الموهوب لأنه لا سبيل إلى الرجوع في الهالك ولا سبيل إلى الرجوع في قيمته لأنها ليست بموهوبة لانعدام ورود العقد عليها الخ (ج6 ص 128کتاب الھبۃ ط: سعید)۔