گناہ و ناجائز

بچےکے اخراجات کے مد میں ماں کو ملنے والے پیسے والدین اور بہنوں کو دئیے جا سکتے ہیں ؟

فتوی نمبر :
71842
| تاریخ :
2024-03-18
حظر و اباحت / جائز و ناجائز / گناہ و ناجائز

بچےکے اخراجات کے مد میں ماں کو ملنے والے پیسے والدین اور بہنوں کو دئیے جا سکتے ہیں ؟

اگر میرے سابقہ شوہر کے بیٹے کا خرچہ کورٹ کے ذریعہ لگ جائے ، کیا میں اس میں سے اپنے والدین یا بہنوں کو خرچ کرنے کے لئے کچھ رقم دے سکتی ہو؟

الجوابُ حامِدا ًو مُصلیِّا ً

سائلہ کے بیٹے کو اس کے والد (سائلہ کے سابق شوہر) کی طرف سے بذریعہ کورٹ جو خرچہ مل رہا ہے وہ سائلہ کے بیٹے کی ملکیت ہے، جسے بیٹے کی ضروریات (کھانے پینے وغیرہ) میں خرچ کرنا سائلہ کی ذمہ داری ہے،سائلہ کے لئے اس رقم میں سے اپنے والدین یا بہنوں کو خرچ کے لئے رقم دینا جائز نہیں، اس سے احتراز لازم ہے۔

مأخَذُ الفَتوی

کمافی رد المحتار: لا يجوز أن يهب شيئا من مال طفله ولوبعوض لأنهاتبرع ابتداء(ج5،ص696،ط:سعید)۔
وفيها ایضاً: اتخذ لولده أو لتلميذه ثيابا ثم أراد دفعها لغيره ليس له ذلك ما لم يبين وقت الاتخاذ أنها عارية(ج5، ص696،ط:سعید)۔

واللہ تعالی اعلم بالصواب
محمد عبدالرب لحاظ عُفی عنه
دار الافتاء جامعه بنوریه عالمیه
فتوی نمبر 71842کی تصدیق کریں
0     524
Related Fatawa متعلقه فتاوی
Related Topics متعلقه موضوعات