کیا فرماتے ہیں علماءِ کرام مندرجۂ ذیل مسئلہ میں کہ میں نے فوزیہ نامی لڑکی سے ان کے والدین کی رضامندی کے بغیر کفؤ میں کورٹ میرج کیا تھا ، جس کے سات ماہ بعد جب وہ حاملہ ہوگئی تو ان کے والدین کو پتہ چلنے پر دوبارہ گواہوں کی موجودگی میں نکاح کرلیا ، اب میرا سوال یہ ہے کہ اسلام میں کورٹ میرج جائز ہے یا نہیں ؟ اور وہ سات ماہ کا بچہ حلال کہلائے گا ؟ میں اس کو اپنی ولدیت دے سکتا ہوں ؟
واضح ہو کہ اولیاء کی اجازت اور رضامندی کے بغیر لڑکی کا کورٹ میرج کرنا انتہائی نامناسب فعل ہے جو خاندان کی بدنامی کا باعث بنتا ہے اور بڑوں کی سرپرستی اور دعاؤں سے خالی ہونے کی وجہ سے عموماً ایسا نکاح طلاق اور خلع پر منتج ہوتا ہے ، اور ایسا نکاح اگر غیر کفؤ میں ہو تو شرعاً منعقد بھی نہیں ہوتا ، تاہم سائل اور اس کی بیوی اگر ایک دوسرے کے باہم کفؤ ہوں تو ان کا یہ نکاح شرعاً منعقد ہوچکا ہے ، اور اس نکاح کے بعد ازدواجی تعلق قائم کرنے کی وجہ سے جو بچہ پیدا ہوا ہے وہ شرعاً حلال اور سائل سے ثابت النسب ہوگا ، اگرچہ بعد میں لڑکی کے والدین کی عزت رکھنے کی خاطر دوبارہ تجدیدِ نکاح کرتے وقت وہ حمل سات ماہ کا ہو ، لہٰذا اس سلسلہ میں بلاوجہ شکوک و شبہات میں مبتلا ہونے کی ضرورت نہیں ۔
کمافی الدر المختار: ومن شرائط الإیجاب والقبول: اتحاد المجلس لوحاضرین وإن طال (ج3، صـــ 14، ط:سعید)۔
وفیہ ایضاً: (وشرط سماع كل من المتعاقدين لفظ الآخر) ليتحقق رضاهما (و) شرط (حضور) شاھدین (حرين) أو حر وحرتين (مكلفين سامعين قولهما معاً) اھ ( ج3، صـــ21-22، ط:سعید)۔
وفیہ ایضاً: وفي الكافي: جدد النكاح بزيادة ألف لزمه ألفان على الظاهر اھ
وفی الشامیۃ تحت: (قوله وفي الكافي إلخ) حاصل عبارة الكافي: تزوجها في السر بألف ثم في العلانية بألفين ظاهر المنصوص في الأصل أنه يلزم الألفان ويكون زيادة في المهر. وعند أبي يوسف المهر هو الأول لأن العقد الثاني لغو. فيلغو ما فيه. وعند الإمام أن الثاني وإن لغا لا يلغو ما فيه من الزيادة اھ (ج3، صـــ 112، ط:سعید)۔
وفی بدائع الصنائع: ومنها ثبوت النسب إذا جاءت بولد، والكلام في هذا الموضع في موضعين في الأصل:
أحدهما في بيان ما يثبت فيه نسب ولد المعتدة من المدة، والثاني في بيان ما يثبت به نسبه من الحجة أي يظهر به: أما الأول فالأصل فيه أن أقل مدة الحمل ستة أشهر؛ لقوله عز وجل {وحمله وفصاله ثلاثون شهرا} [الأحقاف: 15] جعل الله تعالى ثلاثين شهرا مدة الحمل والفصال جميعا ثم جعل سبحانه وتعالى الفصال وهو الفطام في عامين بقوله تعالى {وفصاله في عامين} [لقمان: 14] فيبقى للحمل ستة أشهر، وهذا الاستدلال منقول عن ابن عباس - رضي الله عنهما - فإنه روى أن رجلا تزوج امرأة فجاءت بولد لستة أشهر فهم عثمان - رضي الله عنه - برجمها فقال ابن عباس - رضي الله عنهما -: أما إنه لو خاصمتكم بكتاب الله لخصمتكم قال الله تعالى {وحمله وفصاله ثلاثون شهرا} [الأحقاف: 15] وقال سبحانه {وفصاله في عامين} [لقمان: 14] أشار إلى ما ذكرنا فدل أن أقل مدة الحمل ستة أشهر وأكثرها سنتان عندنا اھ (ج3، صـــ 211، ط:سعید)۔