میاں بیوی نے ہمبستری کی اور غسل جنابت فرض ہوگیا ، بیوی حاملہ تھی اور غسل کرنے سے پہلے بچے کی پیدائش ہوگئی جس سے حالت نفاس میں چلی گئی ، اس صورت میں حکم شرعی کیا ہوگا ، غسل جنابت کرنے کا کیا طریقہ ہوگا ؟ اور کیا غسل نہ کرنے کا گناہ ہوگا ؟
میاں بیوی کے ہمبستری کرنے اور غسلِ جنابت لازم ہونے کے بعد اگر غسل کرنے سے پہلے بیوی کے ہاں بچے کی پیدائش ہوجائے اور بیوی کا نفاس شروع ہوجائے تو ایسی صورت میں بیوی کے ذمہ جنابت سے نکلنے کے لئے فوری طور پر غسل کرنا لازم نہیں اور نہ ہی غسل نہ کرنے کی وجہ سے وہ گنہگار ہوگی بلکہ جب نفاس کا خون بند ہوجائے تو اس وقت نفاس اور جنابت سے نکلنے کے لئے ایک غسل کرنا کافی ہوگا ۔
کما فی الدرالمختار : ( و ) عند ( انقطاع حيض و نفاس ) هذا و ما قبله الحكم إلى الشرط: أي يجب عنده لا به ، بل بوجوب الصلاة أو إرادة ما لا يحل كما مر.اھ ( کتاب الطھارۃ ، باب سنن الغسل ، ج۱ ، ص۱۶۵ ، ط۔ایم سعید )۔