السلام علیکم حضرت !
میرا نام سید نعمان الحق ہے، کراچی گلستان جوہر میں رہتا ہوں، میں نے نیکی کی غرض سے دوسری شادی کی ہے اپنی کزن سے، ان کی خلع ہوئی ہے کورٹ سے , اور ان کی ایک بیٹی ہے جس کی عمر تین (3) سال ہے، 25 اکتوبر 2023 کو کورٹ نے خلع کا آرڈر دیا تھا، میں نے ان سے 17 فروری 2024 کو شادی کی ہے، سوال:
1 مجھے یہ معلوم کرنا ہے میری بیوی کی بیٹی جس کی عمر تین (3) سال ہے، وہ میرے لئے محرم ہے یا نہیں، ؟
2: اگر محرم ہے تو کس عمر تک محرم ہے؟
3: میری بیوی کا پہلا شوہر بچی کو لینا چاہتا ہے، اس معاملے میں دین کی روشنی میں کیا حکم ہے؟
4: دین کے مطابق عدت کا ٹائم پورا ہوچکا ہے یا نہیں؟
5: میری بیوی کا پہلا شوہر نہایت خبیث آدمی ہے جو نا نوکری کرتا ہے ،نا محنت کرتا ہے، اور اپنی بیوی کو غلط کام کرنے پر مجبور کرتا ہے،
6: گھر کے اخراجات میری بیوی کے والدین اٹھاتے تھے ، ان کے بھائی خرچہ چلاتے تھے،
7: کورٹ کے حکم پر بچی ماں کے پاس ہے ،خلع کے بعد سے اور بچی ماں سے بہت اٹیچ ہے اور مجھے بھی بابا جانی کہنے لگی ہے، میں بھی بچی سے محبت کرنے لگا ہوں ، چاہتا تو کنواری لڑکی سے بھی شادی کرسکتا تھا ،لیکن مجھے خوشی ہے اس عمل میں-
8: میری بیوی کا پہلا شوہر بدماشی کر رہا ہے،دھمکیاں دے رہا ہے کہ میں خاتون پرتیزاب پھینک دوں گا ،اس کے ساتھ ایسا کردوں گا، ویسا کردوں گا اور ان کےوالدین کو بھی دھمکیاں دے رہا ہے،
9 : مجھے یہ معلوم کرنا ہے اگر میری اولاد اگر اللہ کے حکم سے بیٹا ہوتا ہے تو کیا وہ میری بیوی کی پہلی بیٹی کے لئے محرم ہے یا نہیں-
10: میری بیوی کی بیٹی میرے لئے کس عمر تک محرم ہے میں باپ بن کے پالنا چاہتا ہوں-
11: میری بیوی کا پہلا شوہر ہر ماہ اپنی بیٹی سے ملاقات کرتا ہے کورٹ کے حکم کے مطابق ، حضرت اس معاملے میں دین کی روشنی میں میری رہنمائی فرمائیں۔
سائل کی کزن نے اگر شوہر کی رضامندی سے 25 اکتوبر کو خلع لی ہو محض یک طرفہ عدالتی خلع نہ ہو، تو یہ خلع شرعاً معتبر ہے، البتہ اگر 17 فروری تک اس کی عدت تین ماہواری مکمل ہوچکی تھی تو سائل کا نکاح درست منعقد ہوچکا ہے، چنانچہ اب اگر سائل نے حقوق ِزوجیت ادا کردیے ہوں تو مذکور عورت کے پچھلے شوہر سے ہونے والی بیٹی سائل کے لئے محرم بن چکی ہے، لہذا سائل کا اگر اس کی کزن سے بیٹا پیدا ہو جائے تو وہ دونوں اخیافی(ماں شریک) بھائی بہن ہوں گے اور آپس میں محرم ہوں گے، جبکہ مذکور بچی سائل کے لئے نکاح سے قبل نامحرم تھی، لہذا سائل کے ساتھ نکاح کرنے کی وجہ سے اس بچی کی ماں کا حق پرورش ختم ہوچکا ہے، اور بچی کی نانی کو حق مل چکا ہے، چنانچہ اگر نانی اس کے لئے تیار ہو تو ٹھیک، ورنہ اس بچی کی دادی کو , اس کے بعد خالہ اور پھوپھی کو نو برس مکمل ہونے تک حق پرورش حاصل ہوگا، البتہ مذکور مدت کے بعد اس بچی کا والد اس کو لینا چاہے تو لے سکتا ہے، سائل کے لئے بچی کو اپنے پاس روکنا شرعاً جائز نہیں۔
کما فی الھندیۃ:(والثانية) بنات الزوجة وبنات أولادها وإن سفلن بشرط الدخول بالأم، كذا في الحاوي القدسي سواء كانت الابنة في حجره أو لم تكن، كذا في شرح الجامع الصغير لقاضي خان. وأصحابنا ما أقاموا الخلوة مقام الوطء في حرمة البنات هكذا في الذخيرة الخ(کتاب النکاح،ج1،ص274،ط:ماجدیۃ)۔
وفیہ ایضاً:والأم والجدة أحق بالغلام حتى يستغني وقدر بسبع سنين وقال القدوري حتى يأكل وحده ويشرب وحده ويستنجي وحده وقدره أبو بكر الرازي بتسع سنين والفتوى على الأول والأم والجدة أحق بالجارية حتى تحيض وفي نوادر هشام عن محمدرحمه الله تعالى إذا بلغت حد الشهوة فالأب أحق وهذا صحيح اھ(باب فی الحضانۃ ،ج 1، ص 542 ، ط: ماجدیہ)۔
وفی ردالمحتارتحت:(قوله بغير محرم) أي من جهة الرحم فلو كان محرما غير رحم كالعم رضاعا، أو رحما من النسب محرما من الرضاع كابن عمه نسبا هو عمه رضاعا فهو كالأجنبي اھ(باب الحضانۃ، ج3، ص 557، ط:سعید)۔
وفی الدرالمختار:(وهي في) حق (حرة) ولو كتابية تحت مسلم (تحيض لطلاق) ولو رجعيا (أو فسخ بجميع أسبابه) ومنه الفرقة بتقبيل ابن الزوج نهر (بعد الدخول حقيقة، أو حكما) أسقطه في الشرح، وجزم بأن قوله الآتي " إن وطئت " راجع للجميع (ثلاث حيض كوامل) لعدم تجزي الحيض الخ(باب العدۃ،ج3،ص504،ط:سعید)۔