السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ! کیا فرماتے ہیں مفتیانِ کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ خلع کے بعد 90 دن صلح کے عدالت نے دیے اور میں نے گھر والوں کے کہنے پر اور کچھ اکیلے پن کی وجہ سے صلح کر لی ، اس نے یہ وعدہ کیا کہ اب وہ دوبارہ غلطیاں نہیں ہوگی، وہ مجھے کئی مہینے اکیلے چھوڑ کر اپنے والدین کے گھر چلے جاتے تھے اور گھر کا کوئی خرچہ وغیرہ بھی نہیں دیتے تھے ، خیر ایک مہینہ صلح کے بعد ساتھ رہے پر کوئی ازدواجی تعلق نہیں قائم ہوا، اب پھر وہ پنچاب چلے گئے ہیں مجھے اکیلا چھوڑ کر ، پوچھنا یہ ہے کہ کوئی ازدواجی تعلق نہ ہو تو خلع کا کیا حکم رہے گا؟ براہِ کرم رہنمائی فرائیں۔
واضح ہو کہ خلع بھی دیگر عقودمالیہ کی طرح ایک عقد ہے، جس کی صحت اور درستگی کیلئے فریقین کی باہمی رضامندی اور با قاعدہ ایجاب و قبول شرط ہے ،چنانچہ سائلہ کے شوہر یا اس کی طرف سے مقرر کردہ وکیل نے عدالت میں حاضر ہو کر اس خلع پر اپنی رضامندی کا اظہار نہ کیا ہو،تو عدالت کی جانب سے خلع کی ڈگری جاری ہونے کے باوجود میاں بیوی کا نکا ح ختم نہیں ہوا ، بلکہ بدستور برقرار ہے، لہذا نکاح کئے بغیر بھی حسبِ سابق میاں بیوی کی حیثیت سے ساتھ رہنا شرعاً جائز اور درست ہے ،لیکن صورتِ مسئولہ میں اگر دونوں میاں بیوی میں ہم آہنگی اور موافقت نہ ہوسکےاورہر وقت کے لڑائی جھگڑوں کی وجہ سے دونوں کے لئے حدود اللہ پر قائم رہتے ہوئےاس رشتہ کو برقرار کھنا مشکل ہو اور شوہر بیوی کا نان نفقہ اوردیگر حقوق بھی ادا نہ کرتا ہو اور نہ ہی طلاق دینے کیلئے تیار ہوتو ایسی صورت میں شوہر حکماً متعنت شمار ہو گا، لہذا ایسی مجبوری میں عورت عدالت میں نان نفقہ نہ دینے کی بنیاد پر" فسخِ نکاح" کی درخواست دائر کرے ، خلع کی درخواست دائر نہ کرے اور قاضی کو بھی چاہیئے کہ وہ قانونی کاروائی کرنے کے بعد خلع کی ڈگری جاری کرنے کے بجائے فسخِ نکاح کی ڈگری جاری کرے ، تاکہ عورت عدت کے بعد دوسری جگہ نکاح کرنے میں آزاد ہو ۔
کما فی احکام القرآن للجصاص: قال أصحابنا: إنهما لا يجوز خلعهما إلا برضى الزوجين, فقال أصحابنا: ليس للحكمين أن يفرقا إلا برضى الزوجين; لأن الحاكم لا يملك ذلك فكيف يملكه الحكمان؟ وإنما الحكمان وكيلان لهما أحدهما وكيل المرأة والآخر وكيل الزوج في الخلع(الی قولہ) وكيف يجوز للحكمين أن يخلعا بغير رضاه ويخرجا المال عن ملكها الخ ( ج2 ص 239 مطلب البیان من اللہ تعالی علی وجہین ط العلمیہ)
وفی بدائع الصنائع: وأما رکنہ فھو الإیجاب والقبول لأنہ عقد علی الطلاق بعوض فلا تقع الفرقۃ، ولا یستحق العوض بدون القبول الخ (کتاب الطلاق فصل فی رکن الطلاق ج 3 صـ 145 ط: دار الکتب العلمیۃ)
وفی حیلۃ الناجزۃ للحلیلۃ العاجزۃ: واما المتعنت الممتنع عن الانفاق ففی مجموع الامیر ما نصہ: ان منعھا نفقۃ الحال فلھا القیام فان لم یثبت عسرہ انفق أو طلق،والا طلق علیہ،قال محشیہ ای طلق علیہ الحاکم من غیر تلوم اھ(73)۔
وفی الھدایۃ: وإذا تشاق الزوجان وخافا أن لا يقيما حدود الله فلا بأس بأن تفتدي نفسها منه بمال يخلعها به(باب الخلع ج 2 ص261 ط: دار احياء التراث العربي)۔