میں نے عمرے کا طواف مکمل کیا اور دو رکعتیں واجب الطواف ادا کرنے کے بعد سعی سے پہلے مسجد حرام سے باہر آیا، ایک خوشبو بیچنے والے صاحب نے مجھ پر نمونے کے طور پر خوشبو کا سپرے کر دیا جس کی ٹھنڈک بائیں ہاتھ اور کلائی کے جوڑ، آدھی کلائی اور دائیں ہاتھ کی تین انگلیوں کے پوروں پر محسوس ہوئی ، دس منٹ کے اندر بغیر خوشبو والے صابن سے کہنی تک بازو کو چار پانچ مرتبہ دھولیا ، البتہ بیٹے (جو احرام میں نہیں تھا) نے سونگھ کر بتایا کہ کچھ خوشبو ابھی محسوس ہورہی ہے، سوال یہ ہے کہ کیا مجھ پر دم یا صدقہ واجب تو نہیں ہوا؟
صورتِ مسئولہ میں مذکور اعضاء پر لگنے والی خوشبو کی مقدار کثیر معلوم ہوتی ہے، لہٰذا حالتِ احرام میں خوشبو لگانے کی وجہ سے سائل پر ایک دم لازم ہوچکا ہے، اور دم کی تفصیل یہ ہے کہ ایک بکرا یا بکری حدودِ حرم میں ذبح کرواکر اس کا گوشت وہاں کے فقراء پر صدقہ کر دیا جائے۔
کمافی الفتاوی الھندیۃ: الطيب كل شيء له رائحة مستلذة ويعده العقلاء طيبا كذا في السراج الوهاج (إلی قولہ) فإذا استعمل الطيب فإن كان كثيرا فاحشا ففيه الدم، وإن كان قليلا ففيه الصدقة كذا في المحيط واختلف المشايخ في الحد الفاصل بين القليل والكثير فبعض مشايخنا اعتبروا الكثرة بالعضو الكبير نحو الفخذ والساق وبعضهم اعتبروا الكثرة بربع العضو الكبير إلخ (ج1،صـــ240،ط:ماجدیۃ)۔
وفی غنیۃ الناسک: فإن طیب عضواً کاملاً من أعضائہ فمازاد کالرأس والوجہ واللحیۃ والفم والساق والفخذ والعضد والید والکف ونحو ذلک فعلیہ دم وإن غسلہ من ساعتہ، وفی أقلہ ولو أکثرہ صدقۃ اھ (صـــ381،ط:المصباح)۔
وفیھا أیضاً: وحیث ما أطلق الدم فالمراد الشاۃ، وھی تجزئ فی کل موضع إلا إذا جامع بعد الوقوف بعرفۃ أو طاف للزیارۃ جنبا أو حائضاً أو نفساء ففیھما تجب بدنۃ (إلی قولہ) کل دم یتأدی بالشاۃ یکفی فیہ سبع بدنۃ اھ (صـــ376،ط:المصباح)۔
وفیھا أیضاً: ذبحہ فی الحرم، فلو ذبح فی غیرہ لایجزئہ عن الذبح إلا إذا تصدق بلحمہ علٰی ستۃ مساکین علٰی کل واحد منھم قدر قیمۃ نصف صاع حنطۃ فإنہ یجوز بدلا عن الإطعام اھ (صـــ409،ط:المصباح)۔
وفیھا أیضاً: ولا یشترط فیہ عدد المساکین، فلو تصدق بہ علی فقیر واحد جاز، ولا فقراء الحرمِ ولا الحرمُ، فلو تصدق بہ علی غیرھم أو أخرجہ من الحرم بعد الذبح فتصدق بہ جاز، وفقراء الحرم أفضل إلا أن یکون غیرھم أحوج اھ (صـــ409،ط:المصباح)۔