السلام علیکم ! سوال یہ ہے کہ میں ایک شادی شدہ اور ایک بیٹی کا باپ ہوں میری والدہ میری بیوی اور میری زندگی میں مسلسل مداخلت کرتی ہیں ، وہ ہمیں ساتھ وقت گزارنے بھی کم دیتی ہیں میری بیوی انکی تمام خدمت کرتی ہے ، نہ وہ اپنی کوئی مرضی کر سکتی ہے ، گھر میں اس کی نیند بھی پوری نہیں ہوتی پھربھی گھر کے سب کام کرتی ہے کہ میری والدہ ناراض نہ ہوں ، وہ اپنی زندگی میری والدہ کی مرضی سے گزارتی ہے ، پھر بھی میری والدہ نہ مجھ سے خوش ہیں نہ میری بیوی سے وہ بنا کسی وجہ کے ہمیں ذہنی اذیت پہنچانے کے لئے چھٹی والے دن اپنا موڈ خراب رکھتی ہیں ، میری بیوی کی صحت اور میری ذہنی حالت خراب ہو رہی ہے کوئی حل بتائیں۔
واضح ہو کہ شریعت مطہرہ نے ہر شخص کے ذمہ والدین اور بیوی بچوں کے الگ الگ حقوق عائد کئے ہیں ، کسی ایک کی وجہ سے دوسرے کی حق تلفی کی اجازت نہیں ، لہذا سائل کو چاہیئے کہ وہ اپنی والدہ کے حقوق (خدمت ، و راحت رسانی اور ادب و احترام ) کی ادائیگی کی حتی الوسع کوشش کرنے کے ساتھ ساتھ اپنی بیوی بچوں کے حقوق کی ادائیگی کی بھی کوشش کریں اور اگر ممکن ہو تو ان کی آرام اور دیگر ضروریات پورے کرنے کے لئے الگ رہائش کا انتظام کریں ، تاکہ وہ گھریلو ذمہ داریاں پورا کرنے کے بعد یکسوئی سے آرام و راحت کا انتظام کرے ، جبکہ سائل اور اس کی بیوی اگر سائل کی والدہ کا حتی الوسع خیال رکھنے کے باوجود وہ بلا کسی وجہ ِشرعی ناراض رہتی ہو تو اس کا یہ رویہ بھی مناسب نہیں ، بلکہ اسے بھی اولاد کے حقوق اور آرام و راحت کا خیال رکھنا چاہیئے ، جبکہ والدہ کی طرف سے سختی اور ناراضگی کے باوجود سائل کےلئے ایسا رویہ اور طرز عمل اختیار کرنا جو والدہ کی دل آزاری کا سبب بنے درست نہیں ، بلکہ سائل کو چاہیئے کہ والدہ کے حقوق ، آرام و راحت اور اسے خوش رکھنے کا بھر پور اہتمام کریں ۔ ان شاء اللہ امید ہےکہ یہ سائل کی خوش بختی اور سعادت مندی کا ذریعہ ہوگا ۔
كما قال الله تعالى : و قضى ربك ألا تعبدوا إلا إياه و بالوالدين إحسانا إما يبلغن عندك الكبر أحدهما أو كلاهما فلا تقل لها أف و لا تنهرها و قل لهما قولا كريما ( سورة بنى إسرائيل، الآية : ٢٣ )-
و في صحيح البخاري : عن عبد اللہ بن عمرو رضي الله عنه عن النبي صلى الله عليه و سلم قال : الكبائر الإشراك بالله و عقوق الوالدين و قتل النفس و اليمين العموس (باب اليمين الغموس ، ج 6 ، ص 2456 ، رقم : 6297، ط : دار ابن كثير)-
و في فتح الباري بشرح صحيح البخاري : و العقوق بضم العين المهملة مشتق من العق و هو القطع و المراد به صدور ما يتأذى به الوالد من ولده من قول أو فعل إلا في شرك أو معصية ما لم يتعنت الوالد وضبطه ابن عطيه بوجوب طاعتهما في المباحات فعلا و تركا واستحبابها في المندوبات و فروض الكفاية كذلك و منه تقديمهما عند تعارض الأمرين. و هو كمن دعته أمه ليمرضها مثلا بحيث يفوت عليه فعل واجب إن استمر عندها ويفوت ما قصدته من تأنيسه لها وغير ذلك لو تركها و فعله وكان مما يمكن تداركه مع فوات الفضيلة كالصلاة أول الوقت أو في الجماعة الخ ( باب بالتنوين قوله عقوق الوالدین ، ج ۱۰، ص 406 ، ط : المكتبة السلفية ، مصر )-