السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ!
جناب میں نے تین سال پہلے اپنی بیوی سے نکاح کیا تھا ، کورٹ میں جاکر مولوی صاحب نے باضابطہ نکاح پڑھایا تھا گواہوں کی موجودگی میں ، نکاح کے دو سال بعد کچھ مسائل کی وجہ سے میری بیوی نے خلع لے لی ،مگر مجھے کوئی نوٹس نہیں آیا ، نہ میں نے اقرار کیا ، نہ کوئی دستخط کیا ، اور خلع کی بنیاد یہ رکھی گئی کہ میں نشہ کرتا ہوں، اور اپنی بیوی کو مارتا ہوں ، اور ظلم کرتا ہوں ، جو کہ وکیل نے خود سے لکھ کر میری بیوی سے دستخط لیے تھے ، اس بات میں کوئی سچائی نہیں ہے ، میری بیوی بھی مانتی ہے کہ یہ سب غلط الزام ہیں ، اور اب میری بیوی میرے ساتھ رہنا چاہتی ہے ، کیا ابھی بھی وہ نکاح میں ہے میرے ؟یا واپس نکاح کرنا پڑے گا ؟ مہربانی کر کے اس کے بارے میں بتائیں ۔
واضح ہو کہ خلع بھی دیگر عقودِ مالیہ کی طرح ایک عقد ہے ، جس کے لئے فریقین کہ باہمی رضامندی اور باقاعدہ ایجاب وقبول شرط ہے جو کہ عموماً یکطرفہ عدالتی خلع میں مفقود ہوتا ہے ، لہذا صورتِ مسئولہ میں اگر سائل کی اجازت ورضامندی کے بغیر سائل کی بیوی نے عدالت سے یکطرفہ خلع کی ڈگری حاصل کرلی ہو ، تو اس سے شرعاً سائل کا نکاح ختم نہیں ہوا ، بلکہ بدستور برقرار ہے ، لہذا سائل اور اس کی بیوی تجدیدِ نکاح کے بغیر حسبِ سابق میاں بیوی کی طرح زندگی بسر کرسکتے ہیں ۔
کما فی احکام القرآن للجصاص: قال أصحابنا: إنهما لا يجوز خلعهما إلا برضى الزوجين, فقال أصحابنا: ليس للحكمين أن يفرقا إلا برضى الزوجين; لأن الحاكم لا يملك ذلك فكيف يملكه الحكمان؟ وإنما الحكمان وكيلان لهما أحدهما وكيل المرأة والآخر وكيل الزوج في الخلع(الی قولہ) وكيف يجوز للحكمين أن يخلعا بغير رضاه ويخرجا المال عن ملكها الخ ( ج2 ص 239 مطلب البیان من اللہ تعالی علی وجہین ط العلمیہ)۔
وفی بدائع الصنائع: ولأبي حنيفة أن الخلع في معنى المبارأة؛ لأن المبارأة مفاعلة من البراءة والإبراء إسقاط فكان إسقاطا من كل واحد من الزوجين للحقوق المتعلقة بالعقد المتنازع فيه كالمتخاصمين في الديون الخ ( ج 1 ص 151 فصل وأما حکم الخلع ط سعید)۔