نکاح

اللہ اور رسول کو گواہ بناکر کئے گئے نکاح کا حکم

فتوی نمبر :
70960
| تاریخ :
2024-02-15
معاملات / احکام نکاح / نکاح

اللہ اور رسول کو گواہ بناکر کئے گئے نکاح کا حکم

السلام علیکم ورحمۃاللہ وبرکاتہ !کیا فرماتے ہیں مفتیان کرام اس مسئلہ ذیل کے بارے میں ،میں اگر کسی لڑکی سے شادی کروں اللہ اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو حاضر ناظر سمجھ کر اور ان فرشتوں کو جو دونوں کندھوں پر بیٹھے ہیں گواہ بنا کر،تو کیا ایجاب و قبول کرنے سے ، تو کیا ہمارا نکاح ہوجائیگا یا نہیں؟
2۔ اگر کسی بندے سے زنا کا صدور ہو جاۓ تو کیا زنا کا کوئی کفارہ ہے یا صرف سچے دل سے توبہ کرنے سے معافی مل جائے گی ؟ جواب دیکر شکریہ کا موقع عنایت فرمائیں۔

الجوابُ حامِدا ًو مُصلیِّا ً

1۔ واضح ہو کہ نکاح کی صحت ودرستگی کے لئے دو عاقل ، بالغ ،مسلمان مرد یا ایک مرد دو عاقلہ بالغہ عورتوں کا مجلس نکاح میں بطور گواہ کے موجود ہونا ضروری ہے ، لہذا سائل کا اللہ ، رسول ﷺ ، و فرشتوں کو گواہ بنا کر کسی لڑکی سے نکاح کرنے سے یہ نکاح شرعاً منعقد نہ ہوگا ، اور اس نکاح کے بعد دونوں کے لئے میاں وبیوی والے تعلقات قائم کرنا بھی جائز نہ ہوگا ، بلکہ اس کے باوجود دونوں حسب سابق ایک دوسرے کیلئے اجنبی اور نامحرم رہیں گے ، اس لئے اس طرز عمل سے اجتناب لازم ہے۔
2۔ واضح ہو کہ کسی لڑکا و لڑکی کا زنا کا ارتکاب کرنا انتہائی قبیح و شنیع عمل اور سخت کبیرہ گناہ ہے ، اگر اسلامی سزائیں نافذ العمل ہو ں تو اس زنا کے مرتکب شخص پر اقرار یا حجت شرعیہ سے زنا کے ثبوت کے بعد رجم یا کوڑوں کی سخت سے سخت سزا جاری کی جاتی ، تاہم کسی شخص سے زنا کا صدور ہو جائے اور وہ اپنے اس فعل حرام پر اللہ کے حضور صدق دل سے توبہ و استغفار کرکے آئندہ کے لئے اس گناہ کبیرہ سے مکمل طور دور رہنے کا پختہ عزم کرے ، تو امید ہے کہ اللہ رب العزت اس کی توبہ قبول فرماکر اسے معاف فرمائیں گے۔

مأخَذُ الفَتوی

کما فی الھدایۃ: قال ولا ینعقد نکاح المسلمین الا بحضور شاھدین حرین عاقلین بالغین مسلمین رجلین او رجل وامراتین الخ(کتاب النکاح ۔ج 3 ص 22 ط: انعامیۃ)۔
وفی الدر المختار: تزوج بشھادۃ اللہ ورسولہ لم یجز،بل قیل یکفر،واللہ اعلم الخ(ج 3 ص 27 ط: سعید)۔

واللہ تعالی اعلم بالصواب
محمد حذیفہ حسن عُفی عنه
دار الافتاء جامعه بنوریه عالمیه
فتوی نمبر 70960کی تصدیق کریں
0     1178
Related Fatawa متعلقه فتاوی
Related Topics متعلقه موضوعات