نکاح

والدین کا بیٹے کی مرضی کے خلاف رشتہ کرنا

فتوی نمبر :
70800
| تاریخ :
2024-02-08
معاملات / احکام نکاح / نکاح

والدین کا بیٹے کی مرضی کے خلاف رشتہ کرنا

السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ!
کیا فرماتے ہیں مفتیانِ کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ میں نے 4سال قبل ایک جگہ رشتہ بھیجا تھا جس کا جواب نہ تھا،پھر میرا ایک رشتہ ہوا جو کہ کچھ لڑکی والوں کی طرف سے والد پر الزام کی وجہ سے ٹوٹ گیا،جس کے بعد وہ پھر وہیں چلے گئے جہاں پہلے بھیجا تھا اس بار بھی نا ہی کا جواب ملا , مجھ سے بنا پوچھے گئے تھے جس پر میں ناراض بھی ہوا،اس کے بعد پھر میرا ایک جگہ رشتہ ہوا جو کہ فیملی مسائل کی وجہ سے ٹوٹ گیا،اس کے بعد میں نے جہاں پہلے رشتہ ٹوٹا تھا , لڑکی سے رابطہ کیا جس میں لڑکی اب بھی راضی ہے نکاح کے لئے , ساتھ رہنے کے لئے ,سب بھلانے کے لئے،مگر گھر والوں نے مجھے بنا بتائے بنا بات کیے اور پوچھے , پھر سے اس پہلی والی جگہ بات کرلی جہاں سے دو بار انکار ہوا تھا ،جب مجھے پتا چلا تو میں نے وہاں رشتہ سے انکار کر دیا ہے مگر گھر والے وہاں رشتہ کے لئے انکاری ہیں اور کہتے ہیں کہ وہ لڑکی اور فیملی اچھی نہیں ہےجب کہ جہاں تک میں جانتا ہوں لڑکی میں کوئی خرابی نہیں , دینِ اسلام سے لگاؤ رکھتی ہے اور ماسٹر کی ڈگری ہے اس کے پاس , با پردہ لڑکی ہے , اس وقت بھی اسکول کی ہیڈ ہے اس کے علاوہ ٹیوشن ٹیچر بھی ہے۔میرے لئے کوئی مفید مشورہ جس سے میں جہاں چاہتا ہوں رشتہ ہو جائے۔کیونکہ شریعت نے بھی پسند کی شادی کی اجازت دی ہے۔

الجوابُ حامِدا ًو مُصلیِّا ً

واضح ہو کہ رشتہ کے انتخاب میں مال، خوبصورتی ، حسب و نسب اور دینداری میں سے دین کو ترجیح دینا چاہیئے اور احادیثَِ مبارکہ میں بھی یہ حکم دیا گیا ہے، لہذا اگر سائل کو پہلی والی جگہ کے بجائے دوسری جگہ رشتہ کرنے میں زیادہ اطمینان ہو اور لڑکی بھی دیندار اور سمجھدار ہو اور س کے والدین بھی اب اس رشتہ پر آمادہ ہوں تو ایسی صورت میں سائل کے گھر والوں کا سائل کی رضامندی اور منشا کو نظرانداز کر کے اسے پہلی جگہ رشتہ پر مجبور کرنا درست نہیں بلکہ حکمِ شرعی (دینداری کو ترجیح دینے )کو مقدم رکھتے ہوئے سائل کی منشا اور مرضی کے مطابق دوسری جگہ رشتہ کی بات کو آگے بڑھانا چاہیئے اور سائل کو بھی چاہیئے کہ گھر والوں کے سامنے اپنی پسند ظاہر کرکے مناسب طریقہ سےانہیں سمجھانے کی کوشش کرے اور اللہ رب العزت سے عافیت اور بہتری کی دعا کرنے کے ساتھ ساتھ سورۂ طہ کی آیت نمبر 132،131 لکھ کر بازو پر باندھ لیں،إن شاء اللہ سب بہتر ہوگا۔

مأخَذُ الفَتوی

کما قال اللہ تعالی: وَ لَا تَمُدَّنَّ عَیْنَیْكَ اِلٰى مَا مَتَّعْنَا بِهٖۤ اَزْوَاجًا مِّنْھُمْ زَهْرَةَ الْحَیٰوةِ الدُّنْیَا لِنَفْتِنَھُمْ فِیْهِ وَ رِزْقُ رَبِّكَ خَیْرٌ وَّ اَبْقٰى الآیۃ (آیتـ 131 سورۃ طہ)
وقال اللہ تعالی: وَ اْمُرْ اَهْلَكَ بِالصَّلٰوةِ وَ اصْطَبِرْ عَلَیْھَا لَا نَسْئَلُكَ رِزْقًا نَحْنُ نَرْزُقُكَ وَ الْعَاقِبَةُ لِلتَّقْوٰى الآیۃ (آیتـ 132 سورۃ طہ)
وقال اللہ تعالی: وَ اَنْكِحُوا الْاَیَامٰى مِنْكُمْ وَ الصّٰلِحِیْنَ مِنْ عِبَادِكُمْ وَ اِمَآىٕكُمْ اِنْ یَّكُوْنُوْا فُقَرَآءَ یُغْنِھِمُ اللّٰهُ مِنْ فَضْلِهٖ الآیۃ (آیتـ 32 سورۃ النور)
وفی مشکاۃ المصابیح: عن عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ قال: قال رسول اللہ ﷺ "یا معشر الشباب، من استطاع منکم الباءۃ فلیتزوج فإنہ أغض للبصر وأحصن للفرج، ومن لم یستطع فعلیہ بالصوم فإنہ لہ وجاء"
وفیھا ایضاً: عن أبی ھریرۃ رضی اللہ عنہ قال: قال رسول اللہ ﷺ "تنکح المرأۃ لأربع: لمالھا ولحسبھا ولجمالھا ولدینھا فاظفر بذات الدین تربت یداک" (کتاب النکاح الفصل الأول ج 2 صـ 3 ط: بشری)
وفی الدر المختار: (ویکون واجبا عند التوقان) فإن تیقن الزنا إلا بہ یکون فرضا نھایۃ وھذا إن ملک المھر والنفقۃ وإلا فلا إثم بترکہ بدائع (و) یکون (سنۃ) مؤکدۃ فی الأصح فیأثم بترکہ ویثاب إن نوی تحصینا وولدا (حال الاعتدال) أی القدرۃ علی وطء ومھر ونفقۃ الخ (کتاب النکاح ج 3 صـ 7-6 ط:سعید)
وفی رد المحتار: تحت (قوله وحسبا) هو ما تعده من مفاخر آبائك (إلی قولہ) روى الطبراني عن أنس عنه - صلى الله عليه وسلم - «من تزوج امرأة لعزها لم يزده الله إلا ذلا، ومن تزوجها لمالها لم يزده الله إلا فقرا، ومن تزوجها لحسبها لم يزده الله إلا دناءة، ومن تزوج امرأة لم يرد بها إلا أن يغض بصره ويحصن فرجه أو يصل رحمه بارك الله له فيها وبارك لها فيه (إلی قولہ) والمرأة تختار الزوج الدين الحسن الخلق الجواد الموسر، ولا تتزوج فاسقا الخ (کتاب النکاح ج 3 صـ 9-8 ط: سعید)

واللہ تعالی اعلم بالصواب
محمد کریم یعقوب عُفی عنه
دار الافتاء جامعه بنوریه عالمیه
فتوی نمبر 70800کی تصدیق کریں
0     741
Related Fatawa متعلقه فتاوی
Related Topics متعلقه موضوعات