(۱) مسجد میں عام آدمی یعنی محلہ کے غریب آدمی کا کھانا کھانا جائز ہے یا نہیں؟ (خیرات وغیرہ کا کھانا)۔
(۲) مسجد میں سوال کرنا حلال ہے یا حرام؟ عام آدمی کا یعنی غریب اور بے بس کا حدود مسجد میں؟
(۳) مدارس کیلئے چندہ مانگنا (مسجد کے اندر) حرام ہے یا حلال ہے؟
جواب: (۱) مسافر یا کسی غریب کا جس کا کوئی ٹھکانہ نہ ہو، مسجد میں کھانا کھانا جائز ہے، مگر اس کو اعتکاف کی نیت کرلینا چاہیئے۔
(۲،۳) اگر کوئی آدمی ایسا ہو جس کو دو وقت کھانے کیلئے بھی کچھ میسر نہ ہو اور سوال نہ کرنے کی صورت میں جان جانے کا اندیشہ ہو ، تو مسجد میں عام مسلمانوں کے سامنے اپنی ضرورت رکھ کر سوال کرنے کی گنجائش ہے ورنہ نہیں، جبکہ مسجد و مدرسہ کی معاونت یا کسی دوسرے دینی مہم کیلئے مسلمانوں سے تعاون کی اپیل کرنا اور اس پر لوگوں کو ابھارنا خود نبی کریم ﷺ سے ثابت ہے اس پر معترض ہونا اور اسے اپنی ذات کیلئے سوال پر قیاس کرنا احکامِ شرعیہ سے ناواقفیت اور جہالت پر مبنی حرکت ہے، جبکہ مسلمانوں پر خود لازم ہے کہ مدارس کی ضروریات پوری کریں تاکہ مذکور صورتحال کی نوبت نہ آئے۔
فی الدر المختار: وأكل ونوم إلا لمعتكف وغریب. اهـ
وفی رد المحتار: تحت (قوله وأكل ونوم الخ) وإذا أراد ذالك ینبغی أن ینوی الإعتكاف فیدخل ویذكر الله تعالٰی بقدر ما نوی أو یصلی ثم یفعل ما شاء. اهـ (فتاویٰ هندیة: ج۱، ص۶۶۱)
وفی الرد: قال فی النهر والمختار أن السائل إن كان لا یمر بین یدی المصلی ولا یتخطٰی رقاب الناس ولا یسئل إلحافًا بل لامر لا بد منه فلا بأس بالسؤال والاعطاء (ج۲، ص۱۶۴) والله اعلم
مساجد میں درسِ قرآن اور فضائلِ اعمال کی تعلیم کے سلسلے میں اختلافات پر شرعی رہنمائی
یونیکوڈ حقوق مسجد 2عارضی مسجد (جائے نماز) کو شہید کرکے وہاں نئی مسجد کی آمدن کے لئے دکانیں بنانا جائز ہے؟
یونیکوڈ حقوق مسجد 3ضرورتمندوں کو اپنی ضروریات کیلئے اور مدرسہ والوں کا طلباء کے لئے مسجد میں چندہ مانگنا
یونیکوڈ حقوق مسجد 0