السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ! کیا فرماتے ہیں مفتیانِ کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ میرے دوست کا نکاح ڈیڑھ سال قبل ہوا تھا، باقی سب معاملات بھی نارمل تھے، ایک سال کے بعد رخصتی ہونا طے پائی تھی، اب کچھ احباب کہتے ہیں کہ اتنا عرصہ ہو گیا ہے تو بہتر ہے کہ دوبارہ نکاح کیا جائے، میرا سوال یہ ہے کہ کیا یہ بات درست ہے ؟ اور اگر دوبارہ نکاح کر لیا جائے تو کوئی حرج ہو گا کیا ؟ عین شریعت اسلامی کے مطابق جواب دیا جائے۔ بہت شکریہ
صورتِ مسؤلہ میں نکاح ہو جانے کے بعد اگر شوہر نے طلاق نہ دی ہو تو نکاح حسبِ سابق برقرار ہے، لہذا رخصتی کے وقت تجدیدِ نکاح شرعاً لازم نہیں، بلکہ اس سے اجتناب بہتر ہے۔
کما فی الدر المختار: (وینعقد) متلبسا (بإیجاب) من أحدھما (وقبول) من آخر (وضعا للماضی) لأن الماضی الخ (کتاب الطلاق ج3 صـ 9 ط: سعید)
و فی رد المحتار: تحت (قولہ وفی الکافی الخ) حاصل (إلی قولہ) (تنبیہ) فی القنیۃ: جدد للحلال نکاحاً بمھر یلزم إن جددہ لأجل الزیادۃ لا احتیاطاً اھ أی لو جددہ لأجل الاحتیاط لا تلزمہ الزیادۃ بلا نزاع، کما فی البزازیۃ اھ (کتاب الطلاق ج3 صـ 113 ط: سعید)
وفی رد المحتار: والاحتیاط أن یجدد الجاھل إیمانہ کل یوم ویجدد نکاح امرأتہ عند شاھدین فی کل شھر مرۃ او مرتین، إذالخطأ وإن لم یصدر من الرجل فھو من النساء کثیر اھ (ج1 صـ 42 ط: سعید)