میں محمد قاسم میری بیوی زارا جاوید جو کہ عرصہ تین ماہ سے ناراضگی کی بنا پر اپنے دادا کے گھر چلی گئی ، میں اسے راضی کرنے کے لئے ضلع اٹک تحصیل جنڈ گیا کہ ہم دونوں میاں بیوی آمنے سامنے بیٹھ کر بات کریں اور اس کو الگ رکھنا چاہتا تھا ،میں نے اس کے چچا کو کہا میری اس سے بات کرائیں مگر انہوں نے بتایا کہ وہ نہیں ملناچاہتی ہے تھوڑی دیر کے بعد اس کے دادا اسٹامپ پیپر یعنی خلع کے لئے لے آیا اور زارا میری بیوی کے دستخط کرائے جب میں نے پڑھااور دیکھا کہ میری بیوی کے دستخط ہیں تو پھر میں نے بھی دستخط کر دیے اور اسی شام میرے نانا نے مجھے فون کال پر کہا کہ اب تم اسکو طلاق دے دو میں نے فون کال پر اکھٹی تین طلاق دےدی،اب اس سے رجوع کرنا چاہتا ہوں اور میری بیوی بھی رجوع کے لئے راضی ہے اور اسکے دادا بھی راضی ہیں ، شریعت کے حساب سے کوئی راستہ ہے جس سے ہم میاں بیوی ایک ہو سکیں میرا ایک بیٹا ہےپانچ سال کا جو ماں کو یاد کرتا ہے۔
نوٹ : جس دن منسلکہ کاغذ پر دستخط کر دیے تھے اسی شام مغرب کے بعد فون پر تین مرتبہ اکٹھی طلاقیں دیدیں ، " الفاظ یہ تھے کہ میں محمد قاسم ولد اسلم خٹک اپنے ہوش و حواس میں زارا جاوید ولد جاوید کو طلاق دیتا ہوں " یہ جملہ میں نے ان کے دادا اور اپنے نانا کے حکم پر کہا تھا مجھے نہیں پتہ کہ آگے فون پر کون تھا ، پس زارا نے مطالبہ کیا اور کہا کہ اب بولو ، اب معلوم یہ کرنا ہے کہ اس صورت میں ہمارے لئے کیا حکم ہے ؟
صورتِ مسؤلہ میں سائل مسمیٰ محمد قاسم کی بیوی مسماۃ زارا جاوید پر تین طلاقیں واقع ہو کر حرمتِ مغلظہ ثابت ہو چکی ہے اور مزید ایک طلاق محل نہ ہونے کی وجہ سے لغو ہوئی ہے ، چنانچہ ا ب رجوع نہیں ہو سکتا ، اور حلالۂ شرعیہ کے بغیر باہم عقدِ نکاح بھی نہیں ہو سکتا ، جبکہ عورت ایامِ عدت گزارنے کے بعد اپنی مرضی سے دوسری جگہ نکاح کرنے میں بھی آزاد ہوگی ، اور حلالۂ شرعیہ یہ ہے کہ عورت ایامِ عدت گزارنے کے بعد بغیر کسی شرط کے کسی مسلمان سے اپنا عقدِ نکاح کرے، چنانچہ اگر وہ دوسرا شخص بھی اسے ایک مرتبہ ہمبستری ( جو کہ حلالۂ شرعیہ کے لئے ضروری ہے ) کےفوراً بعد یا ازدواجی زندگی کے کچھ عرصہ کے بعد طلاق دیدے یا طلاق تو نہ دے ، مگر اس کا پہلے انتقال ہو جائے ، تو بہرصورت اس کی عدت گزارنے کے بعد اگر وہ پہلے شوہر کے عقدِ نکاح میں آنا چاہے اور پہلا شوہر بھی اسے رکھنے پر رضامند ہو تو نئے مہر کے تحقق کے ساتھ گواہوں کی موجودگی میں دوبارہ عقدِ نکاح کرکے باہم میاں بیوی کی حیثیت سے زندگی بسر کر سکتے ہیں ، تاہم حلالہ اس شرط کے ساتھ کرنا کہ زوجِ ثانی ہمبستری کے بعد بیوی کو طلاق دے گا ، تاکہ زوجِ اول دوبارہ اس کے ساتھ عقدِ نکاح کرے یہ مکروہِ تحریمی ہے اور اس پر حدیث میں وعیدیں وارد ہوئی ہیں ، لہذا ایسے حلالے سے احتراز لازم ہے ، البتہ بلا شرط ایسا کرنا جائز اور درست ہے ۔
کما فی الصحیح للبخاری: عن عائشة رضي الله عنها: جاءت امرأة رفاعة القرظي النبي صلى الله عليه وسلم، فقالت: كنت عند رفاعة، فطلقني، فأبت طلاقي، فتزوجت عبد الرحمن بن الزبير إنما معه مثل هدبة الثوب، فقال: أتريدين أن ترجعي إلى رفاعة؟ لا، حتى تذوقي عسيلته ويذوق عسيلتك اھ( باب شالمختبی ، ج 2 ، ص 1243 ، ط: البشری) ۔
و فی الھندیۃ: الطلاق الصريح يلحق الطلاق الصريح بأن قال أنت طالق وقعت طلقة ثم قال أنت طالق تقع أخرى ويلحق البائن أيضا بأن قال لها أنت بائن أو خالعها على مال ثم قال لها أنت طالق وقعت عندنا الخ ( فصل فی الکنایات ، ج 1 ، ص 377 ، ط: ماجدیہ) ۔
و فی بدائع الصنائع: وأما ركنه فهو الإيجاب والقبول؛ لأنه عقد على الطلاق بعوض فلا تقع الفرقة، ولا يستحق العوض بدون القبول اھ ( کتاب الطلاق ، ج 3 ، ص 145 ، ط: سعید) ۔
وفی الھندیۃ: وإن كان الطلاق ثلاثا في الحرة وثنتين في الأمة لم تحل له حتى تنكح زوجا غيره نكاحا صحيحا ويدخل بھا ثم يطلقها أو يموت عنھا كذا في الھداية (فصل فیما یحل بہ المطلقۃ ، ج 1 ، ص 453 ، ط: ماجدیہ) ۔