نکاح

لڑکی کا گھر سے بھاگ کر ولی کی اجازت کے بغیر نکاح کرنا

فتوی نمبر :
70664
| تاریخ :
2024-01-31
معاملات / احکام نکاح / نکاح

لڑکی کا گھر سے بھاگ کر ولی کی اجازت کے بغیر نکاح کرنا

اگر لڑکا اور لڑکی گھر سے بھاگ جائیں بغیر نکاح کے، وہ بعد میں کہیں اپنا نکاح پڑھا سکتے ہیں یا نہیں اپنے والدین کے غیر موجودگی میں؟

الجوابُ حامِدا ًو مُصلیِّا ً

واضح ہو کہ لڑکی کا بھاگ کر ایک نامحرم کے ساتھ رہنا اور ناجائز تعلقات قائم کرنا شرعاً جائز نہیں ، بلکہ گناہِ کبیرہ ہے جس سے بہرصورت احتراز لازم ہے ، لہذا صورتِ مسؤلہ میں لڑکی پر لازم ہے کہ وہ اس نامحرم لڑکے سے ناجائز تعلقات قائم کرنے اور والدین کی اجازت اور رضامندی کے بغیر نکاح کرنے کے بجائے فوراً اپنے گھر لوٹ جائے اور اپنے اس گناہ پر بصدقِ دل توبہ و استغفار کرنے کے ساتھ ساتھ والدین سے بھی اپنی غلطی پر دست بستہ معافی مانگے اور آئندہ دوبارہ اس قسم کے ناجائز کاموں سے مکمل اجتناب کریں ۔

مأخَذُ الفَتوی

کما فی الدر المختار : ( و یفتی ) فی غیر الکف ، ( بعدم جوازہ اصلا ) و ھو المختار للفتوی ( لفساد الزمان ) الخ ( کتاب النکاح ، ج 3 ، ص 56 ، ط: سعید)۔
و فی الھدایۃ : ولا ینعقد نکاح المسلمین الا بحضور شاھدین حرین عاقلین بالغین مسلمین رجلین أو رجل وامرأتین عدولا کانوا أو غیر عدول أو محدودین فی القذف قال اعلم ان الشھادۃ شرط فی باب النکاح لقولہ علیہ السلام ( لا نکاح الا بشھود ) اھ ( کتاب النکاح ، ج 3 ، ص 5 ، ط : رحمانیہ ) ۔

واللہ تعالی اعلم بالصواب
محمد خباب ارباب عُفی عنه
دار الافتاء جامعه بنوریه عالمیه
فتوی نمبر 70664کی تصدیق کریں
0     1177
Related Fatawa متعلقه فتاوی
Related Topics متعلقه موضوعات