کیا فرماتے ہیں علماءِ دین اس مسئلہ کے بارے میں کہ میرے پاس بینک کی طرف سے کارڈ ہے ، میں اس کارڈ سے کچھ آنلائن ویبسائٹس سے چیزیں اقساط پر لیتا ہوں ، تو وہ چیز تو اپنی اصل قیمت پر ہوتی ہے ، لیکن بینک یہ شرط لگاتا ہے کہ اگر آپ نے یہ چیز چھ ماہ کی اقساط پر لینی ہے تو پانج پرسنٹ سروس چارجز لاگو ہوں گے اور اگر بارہ ماہ کی اقساط پر لینی ہیں تو آٹھ پرسنٹ چارجز ہوں گے، تو کیا ایسی صورت میں سروس چارجز کی مد میں وقت کی وجہ سے کمی زیادتی سود کے زمرے میں آئے گی ؟ اور کیا اس صورت میں اقساط پر چیز لینا جائز ہے ؟
نوٹ : بذریعہ فون معلوم ہوا کہ سوال میں مذکور کارڈ سے کریڈیٹ کارڈ مراد ہے ۔
واضح ہو کہ نقد کے مقابلہ میں ادھار کوئی چیز مہنگے دام خریدنے کی شرعاً اجازت ہے ، بشرطیکہ کے خریداری کے وقت یہ طے ہو جائے کہ یہ معاملہ ادھار اور قسطوں پر ہوگا ، اس کی قسطیں اتنی ہونگی اور اتنی مدت میں اس کی ادائیگی ہوگی ، نیز کسی قسط کی تاخیر کی وجہ سے کوئی اضافی چارجز بھی لاگو نہ ہوں گے ، لیکن کریڈیٹ کارڈ کے ذریعہ پیمنٹ کرنے کی صورت میں بینک کا مدتِ ادائیگی کے کم یا زیادہ ہونے کی وجہ سے سروس چارجز کے نام سے اضافی رقم وصول کرنا دراصل جاری کردہ قرض کے بدلے اضافی رقم لینا ہے جو سود ہونے کی وجہ سے شرعاً ناجائز اور حرام ہے ، اس لئے اس سے اجتناب لازم ہے ۔
كما قال الله تعالى : يا أيها الذين آمنوا إذا تداينتم بدين إلى أجل مسمى فاكتبوه الخ (سورة البقرة، الآية : ۲۸۲)-
و في صحيح البخاري : عن عائشة رضي الله عنها أن النبي صلى الله عليه وسلم : اشترى طعاما من يهودي إلى أجل و رهنه درعا من حديد ( باب شراء النبي صلى الله عليه و سلم بالنسيئة ، ج ۲، ص 729، رقم : ۱۹6۲، ط : دار ابن کثیر)-
و في فقه البيوع على المذاهب الأربعة لشيخ الإسلام : و كما يجوز ضرب الأجل لأداء الثمن دفعة واحدة ، كذلك يجوز أن يكون اداء الثمن بأقساط بشرط أن تكون أجال الأقساط ومبالغها معينة عند العقد و قد يسمى " البيع بالتقسيط" و هو نوع من البيع المؤجل و الأقساط قد تسمى " نجوما " انتهى (البيع بالتقسيط، ج ا ، ص 539، ط : مكتبة معارف القرآن)-
و في بحوث في قضايا فقهية معاصرة لشيخ الإسلام : و مما يجب التنبيه عليه هنا : أن ما ذكر من جواز هذا البيع إنما هو منصرف إلى زيادة في الثمن نفسه، أما ما يفعله بعض الناس من تحديد ثمن البضاعة على أساس سعر النقد، و ذكر القدر الزائد على أساس أنه جزء من فوائد التأخير في الأداء، فإنه ربا صراح الخ (إنما الجائز زيادة في الثمن، لا تقاضي الفائدة، ج 1، ص 14، ط : مكتبة دار العلوم كراتشي)-
سونا قرض دے کر بعد میں کچھ کی ادائیگی کے لئے سونے اور بقیہ کی ادائیگی کے لئے نقد رقم کی شرط لگانا
یونیکوڈ سود 1