سود

کریڈٹ کارڈ سے خریداری کرنے کی صورت میں مدتِ ادائیگی کی زیادتی کی بنا پر چارجز میں زیادتی کا حکم

فتوی نمبر :
70559
| تاریخ :
2024-01-25
معاملات / مالی معاوضات / سود

کریڈٹ کارڈ سے خریداری کرنے کی صورت میں مدتِ ادائیگی کی زیادتی کی بنا پر چارجز میں زیادتی کا حکم

کیا فرماتے ہیں علماءِ دین اس مسئلہ کے بارے میں کہ میرے پاس بینک کی طرف سے کارڈ ہے ، میں اس کارڈ سے کچھ آنلائن ویبسائٹس سے چیزیں اقساط پر لیتا ہوں ، تو وہ چیز تو اپنی اصل قیمت پر ہوتی ہے ، لیکن بینک یہ شرط لگاتا ہے کہ اگر آپ نے یہ چیز چھ ماہ کی اقساط پر لینی ہے تو پانج پرسنٹ سروس چارجز لاگو ہوں گے اور اگر بارہ ماہ کی اقساط پر لینی ہیں تو آٹھ پرسنٹ چارجز ہوں گے، تو کیا ایسی صورت میں سروس چارجز کی مد میں وقت کی وجہ سے کمی زیادتی سود کے زمرے میں آئے گی ؟ اور کیا اس صورت میں اقساط پر چیز لینا جائز ہے ؟
نوٹ : بذریعہ فون معلوم ہوا کہ سوال میں مذکور کارڈ سے کریڈیٹ کارڈ مراد ہے ۔

الجوابُ حامِدا ًو مُصلیِّا ً

واضح ہو کہ نقد کے مقابلہ میں ادھار کوئی چیز مہنگے دام خریدنے کی شرعاً اجازت ہے ، بشرطیکہ کے خریداری کے وقت یہ طے ہو جائے کہ یہ معاملہ ادھار اور قسطوں پر ہوگا ، اس کی قسطیں اتنی ہونگی اور اتنی مدت میں اس کی ادائیگی ہوگی ، نیز کسی قسط کی تاخیر کی وجہ سے کوئی اضافی چارجز بھی لاگو نہ ہوں گے ، لیکن کریڈیٹ کارڈ کے ذریعہ پیمنٹ کرنے کی صورت میں بینک کا مدتِ ادائیگی کے کم یا زیادہ ہونے کی وجہ سے سروس چارجز کے نام سے اضافی رقم وصول کرنا دراصل جاری کردہ قرض کے بدلے اضافی رقم لینا ہے جو سود ہونے کی وجہ سے شرعاً ناجائز اور حرام ہے ، اس لئے اس سے اجتناب لازم ہے ۔

مأخَذُ الفَتوی

كما قال الله تعالى : يا أيها الذين آمنوا إذا تداينتم بدين إلى أجل مسمى فاكتبوه الخ (سورة البقرة، الآية : ۲۸۲)-
و في صحيح البخاري : عن عائشة رضي الله عنها أن النبي صلى الله عليه وسلم : اشترى طعاما من يهودي إلى أجل و رهنه درعا من حديد ( باب شراء النبي صلى الله عليه و سلم بالنسيئة ، ج ۲، ص 729، رقم : ۱۹6۲، ط : دار ابن کثیر)-
و في فقه البيوع على المذاهب الأربعة لشيخ الإسلام : و كما يجوز ضرب الأجل لأداء الثمن دفعة واحدة ، كذلك يجوز أن يكون اداء الثمن بأقساط بشرط أن تكون أجال الأقساط ومبالغها معينة عند العقد و قد يسمى " البيع بالتقسيط" و هو نوع من البيع المؤجل و الأقساط قد تسمى " نجوما " انتهى (البيع بالتقسيط، ج ا ، ص 539، ط : مكتبة معارف القرآن)-
و في بحوث في قضايا فقهية معاصرة لشيخ الإسلام : و مما يجب التنبيه عليه هنا : أن ما ذكر من جواز هذا البيع إنما هو منصرف إلى زيادة في الثمن نفسه، أما ما يفعله بعض الناس من تحديد ثمن البضاعة على أساس سعر النقد، و ذكر القدر الزائد على أساس أنه جزء من فوائد التأخير في الأداء، فإنه ربا صراح الخ (إنما الجائز زيادة في الثمن، لا تقاضي الفائدة، ج 1، ص 14، ط : مكتبة دار العلوم كراتشي)-

واللہ تعالی اعلم بالصواب
محمد عبدالمجید نور عُفی عنه
دار الافتاء جامعه بنوریه عالمیه
فتوی نمبر 70559کی تصدیق کریں
0     1305
Related Fatawa متعلقه فتاوی
  • موبائل فون میں ایڈوانس لون بیلنس Mobile Advance Loan Balance پر سود کا مسئلہ

    یونیکوڈ   اسکین   سود 4
  • جی پی فنڈ (GP Fund) پرملنے والی اضافی رقم کا حکم

    یونیکوڈ   سود 0
  • اکاونٹ کی استعمال کی شرط لگانے سے ملنے والی فری سہولت کا استعمال کرنے کی گنجائش ہے؟

    یونیکوڈ   اسکین   سود 0
  • کشف فاؤنڈیشن کی کمائی کا حکم

    یونیکوڈ   سود 1
  • ہاؤس بلڈنگ فائنانس والوں سے قرضہ لینے کا حکم

    یونیکوڈ   اسکین   سود 1
  • حرام مال کا حکم - کیا غریب کیلئے لینا جائز ہے؟

    یونیکوڈ   اسکین   سود 3
  • ایزی کیش کے نام سے قرض لینے کا حکم

    یونیکوڈ   سود 4
  • کیا سودی رقم میں مدرسہ میں دی جاسکتی ہے؟

    یونیکوڈ   سود 1
  • سودی بینک میں pls اکاونٹ کھلوانا

    یونیکوڈ   سود 0
  • بینک سے سود کی رقم کس مصرف میں خرچ کرسکتا ہے؟

    یونیکوڈ   سود 0
  • اگر ادارے میں سود سے بچنے کا اہتمام نہیں کیا جاتا اسمیں نوکری کا حکم

    یونیکوڈ   سود 0
  • سودی اداروں میں رقم رکھنے کا حکم

    یونیکوڈ   سود 0
  • قرآن و حدیث کی روشنی میں”ربوا“ کی حقیقت کیا ہے؟

    یونیکوڈ   سود 0
  • سود پر قرض لینے والے شخص کی اولاد کے لئے حکم

    یونیکوڈ   سود 0
  • کریڈٹ کارڈکی پراسنگ فیس کا حکم

    یونیکوڈ   سود 0
  • قرض پر صرف اس صورت میں اضافی رقم لینا کہ جب مقررہ وقت پر ادا نہ کیا جائے

    یونیکوڈ   سود 0
  • غیر مسلم ممالک سودی معاملہ کرنا

    یونیکوڈ   سود 0
  • قرضہ اتارنے کیلئے سودی قرض لینا

    یونیکوڈ   سود 0
  • پھٹے ہوئے نوٹ کو آدھی قیمت میں فروخت کرنا

    یونیکوڈ   سود 1
  • پراویڈنٹ فنڈ پر سود کے عنوان سے ملنے والی رقم کا حکم

    یونیکوڈ   سود 0
  • سونا قرض دے کر بعد میں کچھ کی ادائیگی کے لئے سونے اور بقیہ کی ادائیگی کے لئے نقد رقم کی شرط لگانا

    یونیکوڈ   سود 1
  • مالکِ مکان کا سودے سے پیچھے ہٹنےپر ،خریدار کا اس سےبیعانہ کے ساتھ اضافی رقم لینا

    یونیکوڈ   سود 0
  • ایزی پیسہ میں ملنے والے منافع کا حکم

    یونیکوڈ   سود 0
  • کیا صرف سود وصول کرنا حرام ہے؟

    یونیکوڈ   سود 0
  • کیا سود دینےسے آمدن حرام ہوجاتی ہے؟

    یونیکوڈ   سود 0
Related Topics متعلقه موضوعات