نکاح

غیر معلوم النسب لڑکی سے نکاح کا حکم

فتوی نمبر :
70322
| تاریخ :
2024-01-15
معاملات / احکام نکاح / نکاح

غیر معلوم النسب لڑکی سے نکاح کا حکم

السلاعلیکم !ایک لڑکی ہے جوکہ گود لی ہوئی ہے ، اسے ایدھی فاؤنڈیشن سے گودلیا گیاتھا ، مگر جن لوگوں نے اسے گودلیا ، وہ لوگ اوران کا خاندان بہت سمجھدار اور اچھی فیملی ہے ، مگر اس لڑکی کے حقیقی والدین کے بارے میں کوئی معلومات نہیں ہے ، کیا اس لڑکی سے نکاح کرنا اسلام کی نظر سے ٹھیک ہے ، کچھ لوگوں کا خیال ہے، کہ ہو سکتا ہے اس لڑکی کی پیدائش ناجائز طریقے سے ہوئی ہو اگر ایسا ہو بھی ، تو کیا اس لڑکی سے نکاح ٹھیک ہو گا اگر وہ کسی دوسرے اور اچھے گھر میں پلی بڑی ہو تو ؟شکریہ۔

الجوابُ حامِدا ًو مُصلیِّا ً

واضح ہوکہ ایک بے سہارا بچی کی تربیت و پرورش کرنا اور پھر اس لڑکی سے شادی کرکے اسے سہارا دینا شرعاًایک پسندیدہ اور مستحسن عمل ہے ، لہذا ایسی لڑکی جو کسی رفاہی ادارے سے گودلی گئی ہو ، اور اس کے حقیقی والدین کا علم نہ ہو ، تو ایسی لڑکی سے اس کے سرپرستوں کی باہمی رضامندی سے نکاح وشادی کرنا بلاشبہ جائز ودرست ہے ، شرعاًاس میں کوئی حرج نہیں ،جبکہ فقط حقیقی والدین کے معلوم نہ ہو نے کی وجہ سے اس بچی کو "ولدالزنا"قرارنہیں دیا جاسکتا اور نہ ہی اس عمل میں اس بچی کا قصورہے ، اس لئے نکاح سے قبل یا بعد میں ایسی لڑکی کے سامنے اس بات کا اظہار کرنا یا طعنہ دینا جس سے اسے اذیت ہو ا ور تکلیف ہو ، ناجائز وحرام ہے ، جس سے احتراز لازم ہے ۔

مأخَذُ الفَتوی


واللہ تعالی اعلم بالصواب
ظفراللہ نعمت عُفی عنه
دار الافتاء جامعه بنوریه عالمیه
فتوی نمبر 70322کی تصدیق کریں
0     653
Related Fatawa متعلقه فتاوی
Related Topics متعلقه موضوعات